ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

300 نوری سال دوری پر ستارے کے گرد سیاروں کی پہلی براہِ راست تصویرحاصل کرلی گئی

datetime 26  جولائی  2020 |

چلی(این این آئی) ماہرینِ فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے زمین سے 300 نوری سال دوری پر، سورج جیسے ایک ستارے کے گرد چکر لگاتے ہوئے دو سیاروں کی پہلی براہِ راست تصویر حاصل کرلی ہے، جو اپنے آپ میں ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔تصویر میں یہ دونوں سیارے، اپنے مرکزی ستارے کے گرد دو روشن نقطوں کی طرح دکھائی دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ

خلا میں روشنی کی رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے اور وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال کے دوران خلا میں طے کرے، وہ ’’نوری سال‘‘ (لائٹ ایئر) کہلاتا ہے۔اب تک ہم نے نظامِ شمسی سے باہر، دیگر ستاروں کے گرد گھومتے ہوئے جتنے بھی سیارے دریافت کیے ہیں، وہ سب کے سب اپنے مرکزی ستارے سے آنے والی روشنی میں اتار چڑھاؤ یا اس ستارے کی حرکت میں بے قاعدگی کی بنیاد پر دریافت ہوئے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب کسی دوسرے ستارے کے گرد سیاروں کی براہِ راست تصویر حاصل کی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق، جس ستارے کے گرد یہ سیارے دریافت ہوئے ہیں وہ ابھی بالکل ’’نوجوان‘‘ ہے اور آج سے ’’صرف‘‘ دو کروڑ سال پہلے ہی وجود میں آیا ہے۔ اس ستارے کا کوئی باقاعدہ نام تو نہیں لیکن فلکیاتی کٹیلاگ میں اس کا نمبر TYC 8998-760-1 ہے؛ اور یہ ’’مْسکا‘‘ (مکھی) نامی جھرمٹ میں واقع ہے۔ یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ نظامِ شمسی ابھی اپنی تشکیل کے ابتدائی مرحلے پر ہے، جیسا کہ ہمارا نظامِ شمسی آج سے 4 ارب 60 کروڑ سال پہلے تھا۔یہ دونوں سیارے بہت بھاری بھرکم ہیں جن میں سے ایک کی کمیت ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بھاری سیارے ’’مشتری‘‘ کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ، جبکہ دوسرے کی کمیت ہمارے مشتری سے 14 گنا زیادہ ہے۔ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ ان میں سے قریب والا سیارہ اپنے ستارے سے 160 فلکی اکائیوں جتنے فاصلے پر، جبکہ دور والا سیارہ 320 فلکیاتی اکائیوں کے فاصلے پر رہتے ہوئے محوِ گردش ہے۔ایک فلکیاتی اکائی (ایسٹرونومیکل یونٹ یا AU) سے مراد سورج اور زمین کے درمیان اوسط فاصلہ ہے

جو تقریباً 15 کروڑ کلومیٹر بنتا ہے۔ موازنے کی غرض سے بتاتے چلیں کہ ہمارے نظامِ شمسی میں سیارہ نیپچون کا ہمارے سورج سے فاصلہ 30 فلکیاتی اکائیوں جتنا ہے، جبکہ پلوٹو بھی سورج سے صرف 39 فلکیاتی اکائیوں جتنی دوری پر ہے۔یہ دریافت ’’ویری لارج ٹیلی اسکوپ‘‘ (VLT) کی مدد سے کی گئی ہے جسے اس وقت ’’زمین پر موجود سب سے طاقتور اور حساس ترین بصری دوربین‘‘ کا

اعزاز بھی حاصل ہے۔ یورپین سدرن آبزرویٹری (ESO) کے زیرِ انتظام چلنے والی یہ رصدگاہ، چلی کے دور افتادہ ریگستان ’’اٹاکاما‘‘ میں تعمیر کی گئی ہے۔ یہ چار فلکی دوربینوں پر مشتمل ہے جن میں سے ہر ایک دوربین کے آئینے کا قطر 8.3 میٹر ہے۔ویسے تو ان دوربینوں کو الگ الگ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن دور دراز خلائی اجسام کی واضح اور بہتر تصویر کشی کیلیے ان دوربینوں کو

ایک ساتھ کچھ یوں مربوط کیا جاتا ہے کہ یہ چاروں مل کر ایک بہت بڑی اور انتہائی طاقتور فلکی دوربین کی طرح کام کرتی ہیں۔اس دریافت کی مکمل تفصیلات ’’دی ایسٹروفزیکل جرنل لیٹرز‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ یہ دریافت کرنے والی عالمی ٹیم میں ہالینڈ (نیدرلینڈ)، بیلجیئم، برطانیہ اور امریکا سے تعلق رکھنے والے ماہرین شامل تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…