جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

یاداشت کے بارے میں سائنس کادعویٰ غلط ثابت

datetime 6  اپریل‬‮  2015 |

کیلی فورنیا (نیوز ڈیسک) سائنسدان گزشتہ ایک صدی سے یقین رکھتے آئے ہیں کہ انسانی یادداشت اعصابی خلیوں کے جوڑ جنہیں سی نیپس بھی کہتے ہیں، ان کے اندر جمع ہوتی ہے تاہم امریکی ماہرین نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔ پرانے خیال کے مطابق جب دماغی خلیئے خاص طرح کا کیمیکل ان جوڑوں میں خارج کرتے ہیں تو انسان کو ماضی کا کوئی واقعہ یاد آتا ہے۔ جب جب ماضی کی کوئی یاد تازہ ہوتی ہے تب تب دماغی اور اعصابی خلیوں کے بیچ یہ تعلق قائم ہوتا ہے اور مضبوط ہوتا ہے۔ تقریباً ایک صدی پرانے اس خیال کو جسے دنیا بھر کی بائیولوجی کی کتابوں میں پورے اعتماد کے ساتھ جگہ بھی دی گئی ہے، لاس اینجلس کی یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے ماہرین کی ایک ٹیم نے غلط ثابت کردیا ہے۔ اگر ماہرین اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کرنے میں کامیاب رہے تو امید ہے کہ اس طرح نفسیاتی عارضے پی ٹی ایس ڈی کا علاج ڈھونڈنے میں مدد ملے گی کیونکہ اس تکلیف میں مبتلا مریض تکلیف دہ یادوں سے بے حد پریشان رہتا ہے۔ ماہرین نے ایک دہائی قبل اس مرض کے علاج کیلئے پروپرینولول نامی دوا پر تجربے شروع کئے تھے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ یہ دا دماغ میں یادوں کے تازہ ہونے کے عمل کو روکے گی کیونکہ اس میں ان پروٹینز کو ختم کرنے کیلئے ضروری ہے جو کہ طویل عرصے کیلئے کسی واقعے کو دماغ میں تازہ رکھتے ہیں۔ اس کیلئے تجربات کی روشنی میں ثابت ہوا کہ بیماری کا شکار ہونے کے فوری بعد اگر اس دوا کو مریضون کو دیا جائے تب تو فرق کی توقع کی جاسکتی ہے تاہم دوسری صورت میں یہ دوا کوئی فرق پیدا نہیں کرپاتی ہے۔ بعد ازاں ماہرین کو معلوم ہوا کہ جب کوئی فرد کسی ماضی کی یاد کو دوہراتا ہے تو وہ اسے دوبارہ یاد ہی نہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس مین معمولی سی تبدیلیان بھی واقع ہوسکتی ہیں۔ اس موقع پر پروپرینیلول خواہ گولی کی شکل میں دی جائے یا انجکشن دیا جائے تو مریض میں دوبارہ یادداشت کے واپس آنے کو روکا جاسکتا ہے۔تازہ ترین تجربہ ماہرین نے لیبارٹری میں ایک ممالیہ جانور پر کیا ہے جس ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ یادداشت سیناپیز میں جمع نہیں ہوتی ہے۔ بلکہ یہ خلیہ مین ہی کہیں موجود ہوتی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ جب ماہرین نے سینپایز کو دماغ سے علیحدہ کیا تو بھی انہیں معلوم ہوا کہ خلیوں میں مالیکیولر اور کیمیائی تبدیلیاں مسلسل رونما ہوتی رہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…