بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بگرام ایئر بیس پر طالبان کا بڑا دعویٰ جھوٹا ثابت ہوگیا، واشنگٹن پوسٹ کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 14  دسمبر‬‮  2025 |

واشنگٹن (این این آئی)واشنگٹن پوسٹ نے طالبان رجیم کے اس دعوے کو بے نقاب کر دیا ہے جس میں کہا جا رہا تھا کہ بگرام ایئر بیس پر فوجی سازوسامان تیار کیا جا رہا ہے۔امریکی جریدے کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ طالبان بگرام ایئر بیس پر نہ تو جنگی طیارے بنا رہے ہیں اور نہ ہی بکتربند گاڑیاں تیار کی جا رہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان نے ناکارہ طیاروں اور پرانی بکتر بند گاڑیوں کو صرف رنگ و روغن کر کے رن وے پر کھڑا کیا ہوا ہے، جنہیں سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق طالبان نے جنگی مشقوں، طیاروں کی مبینہ مرمت اور عسکری پریڈز کی ویڈیوز جاری کر کے گمراہ کن تاثر دینے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں بعض تحقیقاتی اور مفاداتی حلقے بگرام ایئر بیس کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اسلحے اور فوجی سازوسامان کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بگرام ایئر بیس کی واپسی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔امریکا کے خصوصی نگران جنرل برائے افغان تعمیر نو پہلے ہی یہ انکشاف کر چکے ہیں کہ امریکی انخلا کے دوران افغانستان میں تقریباً 7.1 ارب ڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان چھوڑا گیا تھا۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق طالبان اپنی سیکیورٹی ضروریات کے لیے غیر منظم اور مسلح گروہوں پر انحصار کر رہے ہیں، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان رجیم کے اقدامات اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کو پشت پناہی جاری رہے گی، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ سمجھی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…