جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

امکان یہی ہے کہ عمران خان اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن ۔۔۔سلیم صافی نے پریشان کن دعویٰ کردیا

datetime 5  مارچ‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کا متحرک ہونا اور اپنا فرض نبھانا ،پھر ڈسکہ کا انتخاب اور پھر اس پر الیکشن کمیشن کا سٹینڈ اور سینیٹ انتخابات کا رزلٹ، اس طرح کی چیزیں تو ہمیں بتا رہی ہیں کہ”تبدیلی” آ گئی ہے اور وہ قوتیں جس طرح کہہ رہی ہیں تو اسی طرح

وہ نیوٹرل ہو چکی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں دوسری سائیڈ کے بھی اشارے مل رہے ہیں ، آنے والا وقت بتائے گا کہ حقیقت میں کیا ہے ؟انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قوم سے اپنے خطاب میں الیکشن کمیشن کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے ،یہ الیکشن کمیشن اگر پارٹی فنڈنگ کیس کا میرٹ اور وقت پر فیصلہ کر چکا ہوتا تو کیا پاکستان میں آج یہ نظام ہوتا ؟کیا آج عمران خان وہاں پر موجود ہوتے ؟پچھلے الیکشن میں جو بے شرمی دکھائی اس وقت کے الیکشن کمیشن نے،جس طریقے سے آر ٹی ایس سسٹم فیل کیا گیا ،جس طریقے سے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کران کی عدم موجودگی میں گنتی ہوئی ،جس طریقے سے حکومتی ایم این ایز اور سینیٹرز کو رعایتیں ملتی رہیں ،اس کے بعد تو اس الیکشن کمیشن کے جو اصل کردار تھے سیکرٹری الیکشن کمیشن ان کو تو اِنہوں نے تمغوں سے نوازا اور پھر اس کے بعد انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کی کوشش کی ،جب یہ نہیں ہو سکا تو انہیں وزارت سے بھی زیادہ اہم منصب دیا گیا ۔سلیم صافی نے مزیدکہا

کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو پہلے سے ایسے تھے ،اب خان صاحب کو بھی مہربانی کرنی چاہئے کہ وہ ریاست مدینہ اور اصولوں کی سیاست کا رولا ڈالنا چھوڑ دیں ،جس طرح پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو نہیں جچتی یہ چیزیں ،یہ پاور پالیٹکس ہے جو ان تین چار بڑی جماعتوں کے

درمیان ہو رہی ہے ،الیکشن میں پیسوں کا استعمال بالکل بند ہونا چاہئے،خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی نے فرحت اللہ بابر کو ٹکٹ دیا ،مسلم لیگ ن نے دو تین پیسے والوں کو ٹکٹ دیئے جبکہ اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو ان کے ساتھ سالوں سے وابستہ ہیں ،ایم کیو ایم

اوراختر مینگل نے بالکل میرٹ پر ٹکٹ دیئے،تحریک انصاف کے علاوہ کسی اور پارٹی امیدواروں کی ٹکٹ پر اعتراض ہوئے ؟نہیں ،سب سے زیادہ پیسے والوں کو ٹکٹ تو عمران خان نے دیئے ہیں ۔وزیراعظم عمران خان جس رستے سے اقتدار میں آئے تھے اور جو بیساکھیاں اور

سہارے ان کی حکومت کا وسیلہ بنے تھے ،اگر وہ سہارے اور وسیلے برقرار رہے تو پھر انہیں اعتماد کا ووٹ لینے میں کوئی مشکل نہیں ہونی چاہئے ،غالب امکان یہی ہے کہ وزیراعظم اعتماد کا ووٹ لے لیں گے لیکن گزشتہ شام ان کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ وہ اب اپنا اعتماد کھو چکے ہیں،سینٹ نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ عوام اور ورکرز تو کیا ان کے اپنے پارلیمنٹیرین کا بھی اعتماد نہیں ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…