ہم خود ہی ڈکلیئر کر دیں
ہجوم ہاسٹل تک پہنچا‘ گیٹ توڑے‘ اندر داخل ہوا‘ کمرے کا دروازہ توڑا اور کونے میں دبکے‘ سمٹے نوجوان کو دبوچ لیا‘ وہ ’’میں نے نہیں کیا‘ میں نے نہیں کیا‘‘ کی دہائی دیتا رہا لیکن ہجوم اسے ٹھڈے‘ مکے اور تھپڑ مارنے لگا‘ ہجوم میں ایک پستول بردار بھی تھا‘ پستول بردار نے سلگتی… Continue 23reading ہم خود ہی ڈکلیئر کر دیں


































