منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آن لائن گیم کیلئے لیا قرض اتارنے کیلئے نوجوان نے ماں کو قتل کر ڈالا

datetime 26  فروری‬‮  2024 |

فتح پور(این این آئی)بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک بیٹے نے آن لائن گیم سے لیے جانے والے ادھار پیسے واپس کرنے کے لیے اپنی والدہ کو قتل کر ڈالا۔بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ فتح پور میں پیش آیا جہاں ہیمانشو نامی شخص آن لائن گیم کا شوقین تھا اور جو مسلسل ہارنے پر آن لائن گیم سے مزید ادھار لیتا رہا۔پولیس کے مطابق ہیمانشو پر آن لائن گیم کا 4 لاکھ کا ادھار ہوگیا تھا جس پر اسے پریشانی ہوئی کہ یہ رقم کیسے واپس کی جائے۔پولیس نے بتایا کہ قرض واپس کرنے کیلئے ہمانشو نے اپنی پھوپھی کے زیورات چرا لیے اور اس رقم کو اپنے والدین کے لیے 50 لاکھ روپے کی لائف انشورنس پالیسیاں خریدنے کے لیے استعمال کیا اور پھر اس کے فورا بعد ہیمانشو نے مبینہ طور پر اپنی ماں پربھا کا گلا دبا کر قتل اسے کر دیا۔

پولیس کے مطابق قتل کرنے کے بعد ہیمانشو نے ماں کو ایک بوری میں ڈالا اور اپنے ٹریکٹرپر سوار ہو کر لاش کو دریائے جمنا میں پھینکنے کیلئے روانہ ہوگیا۔پولیس نے مزید بتایا کہ ہیمانشو کے والد موقع واردات پر گھر پر موجود نہیں تھے اور گھر واپس آنے پر بیٹے اور بیوی کی غیر موجودگی پر وہ انہیں اپنے قریبی رشتہ داروں کے گھر ڈھونڈنے چلے گئے۔پڑوسیوں سے پوچھنے پر والد کو بتایا گیا کہ اس کا بیٹا ٹریکٹر پر سورا ہوکر دریائے جمنا کی جانب گیا ہے، وہاں جا کر باپ نے پولیس کو آگاہ کیا اور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بیٹے ہیمانشو کو گرفتار کر لیا اور دوران کارروائی اس نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا کہ اس نے یہ سب کچھ آن لائن گیم کھیلنے کے لیے لیا گیا ادھار واپس کرنے کے لیے کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…