منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

ترکی کا فرانس میں اسلامک اسکولز کھولنے کا ارادہ ، پیرس کو شدید تحفظات

datetime 14  مئی‬‮  2019 |

پیرس(این این آئی)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کی فرانس میں انٹرمیڈیٹ اسکولز قائم کرنے کی خواہش نے پیرس اور انقرہ کے درمیان تنازع پیدا کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں فرانسیسی وزیر تعلیم جان میشیل بلینکر نے مقامی میڈیا کو دیے گئے بیان میں اس خیال کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔

انہوں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے فرانس کی سیکولر پالیسی سے خارج قرار دیا۔بلینکر نے RMC ریڈیو کو انٹرویو میں ایردوآن کی جانب سے مذہبی سخت گیریت پھیلانے کی کوششوں پر نکتہ چینی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی نے اْس سیکولرزم کو پیٹھ دکھا دی ہے جو کئی دہائیوں سے اس کی تاریخ کا امتیاز رہا۔ اب اس کا رخ مذہبی بنیاد پرستی کی سمت ہو گیا ہے۔ ہمیں اس حوالے سے بالکل واضح رہنا ہو گا۔ لہذا میں اس منصوبے کے سلسلے میں انتہائی خبردار کر رہا ہوں۔فرانسیسی وزیر نے ترکی کی موجودہ حکومت کی پالیسیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ بلینکر نے باور کرایا کہ وہ فرانس میں بین الاقوامی اداروں کی موجودگی کے مخالف نہیں ہیں مگر ترکی کے حکام کی جانب سے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے فرانسیسی اداروں پر دباؤ کو مسترد کرتے ہیں۔بلینکر کا یہ بیان فرانسیسی جریدے لوبوان میں 3 مئی کو شائع ہونے والے ایک مضمون پر تبصرے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ مضمون میں کہا گیا تھا کہ ترکی کے صدر فرانس میں تْرک اسکولز کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس سے قبل ترک ذمے داران نے گزشتہ ماہ ترکی میں فرانسیسی انٹرمیڈیٹ اسکولوں کا دورہ کیا تھا۔ دورے کا مقصد اس امر کی تصدیق کرنا تھا کہ ترک طلبہ کی تعلیم کے واسطے یہ ادارے ترک معاشرے کی اقدار کی کس حد تک پاسداری کر رہے ہیں۔ترکی کی حکومت نے جولائی 2017 میں ایک نیا تعلیمی نصاب پیش کیا تھا۔ اس نئے نصاب میں بعض علمی نظریات کو حذف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک کے لیے مختص مواد کے ایک بڑے حصے کو 15 جولائی 2016 کو ایردوآن کے خلاف ناکام انقلاب کی کوشش کے متعلق متن سے تبدیل کر دیا گیا۔ترکی نے فرانس میں اپنا پہلا انٹرمیڈیٹ اسکول 2015 میں اسٹراس برگ شہر میں کھولا تھا۔ یہ فرانس میں تیسرا اسلامک اسکول تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…