ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

چوہوں کے گینگ نے ایک ہزار لیٹر الکحل پی لی، پولیس کے دعویٰ نے سب کو حیرت میں ڈال دیا: ایسا ناقابل یقین ہے کیونکہ۔۔۔!!!ریٹائرڈ پروفیسرنے معاملے کا رخ ہی موڑ دیا

datetime 29  دسمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کے شہر بریلی کی پولیس نے حیران کن دعوے میں چوہوں کے گینگ پر پلاسٹک کی بوتلوں میں موجود ایک ہزار لیٹر الکحل پینے کا الزام عائد کردیا۔بھارتی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بریلی کے کنٹونمنٹ پولیس اسٹیشن کے اسٹور روم (مال خانہ) میں الکحل کی کچھ بوتلیں غائب تھیں جبکہ بعض خالی تھیں اور ان میں سوراخ بھی تھے۔پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھینندن سنگھ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں تفتیش کی جارہی ہے کہ چوہوں نے الکحل پی تھی یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم چوہوں کے اس گینگ کو پکڑ لیں گے تاکہ آئندہ کوئی چوہا مال خانے میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔ابھینندن سنگھ نے الکحل کی واضح مقدار سے متعلق تصدیق نہیں کی لیکن ذرائع کے مطابق پولیس اسٹیشن نے تصدیق کی تھی کہ تقریباً ایک ہزار لیٹر الکحل غائب ہوئی تھی۔یہ معاملہ اس وقت زیر غور آیا جب کنٹونمنٹ پولیس اسٹیشن کے ہیڈ محرر نے تھانے کے اسٹور روم کا دورہ کیا اور وہاں کئی خالی بوتلیں دکھائی دیں۔سپرنٹنڈنٹ پولیس کے مطابق ہیڈ محرر نریش پال حال ہی میں یہاں تعینات ہوئے ہیں، انہوں نے گزشتہ شب مال خانے کا دورہ کیا جہاں انہیں کچھ خالی اور دیگر گیلن ملے جن میں سوراخ کیے گیے تھے، انہوں نے چوہوں کو بھاگتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ عموماً قبضے میں لی جانے والی الکحل کو ضائع کردیا جاتا ہے، جبکہ قانونی اور دیگر مقاصد کے لیے صرف ایک نمونہ رکھا جاتا ہے۔سپرنٹنڈنٹ پولیس کا کہنا تھا کہ مال خانے میں رکھی گئی الکحل 10 برس پرانی تھی اور اسے ضائع کیا جانا چاہیے تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ میں نے اس سلسلے میں سینئر حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا تھا کہ غیر قانونی الکحل کو ضائع نہیں کیا جارہا، لیکن اس حوالے سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ادھر بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب اسٹور روم کو آوارہ کتے کی لاش نکالنے کے لیے کھولا گیا تھا۔اس آوارہ کتے کو چند روز قبل لا کر اسٹور روم میں بند کیا تھا اور وہ اندر ہی مرگیا تھا، لیکن جب اسٹور روم کھولا گیا تو قبضے میں لی گئی غیر قانونی الکحل کے کئی گیلن غائب تھے۔مزید برآں بریلی کالج کے ریٹائرڈ پروفیسر نے بتایا کہ چوہے الکحل پی سکتے تھے اگر وہ کسی ایسی جگہ موجود ہوتے جہاں پانی نہیں تھا، لیکن جس مقدار کا پولیس نے دعویٰ کیا وہ ناقابل یقین ہے، وہ ایک ہزار لیٹر الکحل نہیں پی سکتے کیونکہ وہ اسے زیادہ پسند نہیں کرتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…