اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

امن معاہدے کے لیے فلسطینیوں اور اسرائیل دونوں کو لچک دکھانا ہوگی،امریکہ

datetime 25  جون‬‮  2018 |

مقبوضہ بیت المقدس(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور ان کے مشیر خاص جارڈ کوشنر نے کہا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے لیے فریقین کو اپنے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا ہوگا مگر فلسطینی صدر محمود کے موقف میں کوئی لچک نہیں اور وہ امن سمجھوتے کے لیے پسپائی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔فلسطینی اخبارکو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی مشیر نے کہا کہ امن معاہدے کے لیے فلسطینیوں اور اسرائیل دونوں کو لچک دکھانا ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں جارڈ کوشنر نے کہا کہ صدر محمود عباس کہتے ہیں کہ وہ امن مساعی کے پابند ہیں۔ میرے پاس ان کے اس دعوے کے رد کا کوئی سبب نہیں مگر مجھے شبہ ہے کہ ان میں کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے پسپائی کی صلاحیت نہیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ 25 برسوں کے دوران جن باتوں کے اصرار اور نکات پر زور دینے سے کوئی تبدیلی نہیں آسکی وہ اب بھی امن معاہدے تک نہیں پہنچا سکیں گے۔ کسی ڈیل تک پہنچنے کے لیے فریقین کو ایک دوسرے سے مذاکرات شروع کرنا اور اعلانیہ کسی موقف پر اتفاق کرنا ہوگا مگر مجھے نہیں لگتا کہ صدر محمود عباس ایسا کرسکتے ہیں۔دوسری جان فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ امریکی امن منصوبہوقت کاضیاع ہے اور وہ ناکامی سے دوچار ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اپنے آئینی اورحقوق اور عرب اور عالمی سطح پرمسلمہ دیرینہ مطالبات سے دست بردار نہیں ہوں گے۔جارڈ کوشنر نے یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب وہ اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جیسن گرین بیلٹ کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ ان کے دورے کا مقصد فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تعطل کا شکار بات چیت کی بحالی اور مشرق وسطیٰ میں دیر پا قیام امن کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی’صدی کی ڈیل‘ پر خطے کی قیادت کو اعتماد میں لینا ہے۔واضح رہے کہ جارڈ کوشنر اور گرین بیلٹ نے گذشتہ جمعہ کو تل ابیب میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سیملاقات کی تھی۔ ان کے دفترسے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کوشنر اور نیتن یاھو کے درمیان ہونے والی بات چیت میں علاقائی صورت حال، امن وامان کے مسائل اور غزہ میں انسانی بحران پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جارڈ کوشنر نے مصر، اردن اور قطر کا بھی دورہ کیا اور وہ سعودی عرب کا بھی دورہ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…