ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

جرمنی نے دس ہزار پاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر فیصلہ سنادیا،کتنوں کوپناہ ملی؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 16  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

برلن(این این آئی)جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کی نئی سربراہ یْوٹا کورٹ نے کہاہے کہ موسم بہار کے اختتام تک جرمنی میں جمع کرائی گئی پناہ کی تمام پرانی درخواستوں پر فیصلے سنا دیے جائیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یْوٹا کورٹ حال ہی میں جرمنی کے وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کی سربراہ تعینات ہوئی ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران ڈیڑھ ملین سے زائد تارکین وطن کی آمد کے باعث ملک میں سیاسی پناہ کی لاکھوں درخواستوں پر اب تک فیصلہ نہیں کیا جا سکا۔

آئندہ مہینوں کے دوران تمام درخواستیں نمٹانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کورٹ نے کہاکہ ہم نے ہدف مقرر کیا ہے کہ موسم بہار کے اواخر تک جرمنی میں جمع کرائی گئی پچھلی تمام پناہ کی درخواستوں پر فیصلے سنا دیے جائیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پناہ کے متلاشی افراد کو جلد از جلد معلوم ہو سکے کہ کیا انہیں جرمنی میں رہنے کی اجازت ہے یا نہیں۔علاوہ ازیں وفاقی دفتر برائے مہاجرت اور ترک وطن اس سال جمع کرائی جانے والی درخواستوں پر فیصلے بھی پہلے کی نسبت کم دورانیے میں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ2016ء کے دوران قریب دس ہزار پاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے سنائے گئے۔ ان میں سے محض 353 افراد یا 3.5 فیصد کو پناہ دی گئی جب کہ باقی تمام درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔

اس کے برعکس افغانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی پناہ کی درخواستوں کی کامیابی کا تناسب پچپن فیصد رہا جب کہ عراقی تارکین وطن میں سے بھی ستّر فیصد کو جرمنی میں پناہ دے دی گئی۔ شام سے تعلق رکھنے والے قریب سبھی (98.1 فیصد) درخواست دہندہ شہریوں کو بھی جرمنی میں بطور مہاجرین پناہ دے دی گئی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…