اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

آٹا، چینی ،انڈے مافیا کے بعدایک اور مافیا بھی سرگرم  ، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا 

datetime 15  اکتوبر‬‮  2020 |

فیصل آباد  (آن لائن) ملک بھر میں آٹا، چینی ،انڈے مافیا کے بعد سیمنٹ مافیا بھی سرگرم ہو گیا۔سیمنٹ کی بوری 650سے 700روپے تک پہنچ گئی جبکہ سیمنٹ کیساتھ ساتھ، اینٹوں، ریت، بجری کے ریٹ ڈبل کر دیئے جس کے باعث تعمیراتی شعبہ بحران کا شکار ہو گیا، تعمیراتی میٹریل کے ریٹ ڈبل ہونے سے سرکاری، غیر سرکاری تعمیراتی کام رک گئے،

ضلعی انتظامیہ مصنوعی مہنگائی  کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام ، ڈپٹی کمشنر محمد علی نے تعمیراتی شعبہ میں ازخود مہنگائی کا نوٹس لیتے ہوئے آج اجلاس طلب کر لیا۔ آن لائن کے مطابق ملک بھر میں ایک سے ایک بحران جاری ہے،آٹا، چینی ،انڈے مافیا کے بعد فیصل آباد  سیمنٹ مافیا بھی سرگرم ہو گیا ۔ سیمنٹ، اینٹوں، ریت، بجری کے ریٹ ڈبل کر دیئے  ،مہنگائی کی لہر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیمنٹ مافیا نے بھی سر اٹھا لیا اور ایک ہفتہ کے دوران سیمنٹ کی بوری 5 سو روپے سے بڑھا کر ساڑھے 6 سو روپے کر دی گئی جبکہ بھٹہ خشت مالکان نے بھی اینٹوں کے من مانے ریٹ وصول کر رہے ہیں جبکہ بلڈنگ میٹریل کے کاروبار سے وابستہ دکاندار بھی ریت، بجری کا مصنوعی بحران ظاہر کر کے منہ مانگے دام وصول کرنے لگے۔تعمیراتی شعبہ میں استعمال ہونیوالے میٹریل اور خام مال مہنگا ہونے سے شہر بھر میں تعمیراتی کام رک گئے، سیمنٹ، ریت، بجری اور اینٹوں کے ریٹ بڑھنے سے ٹھیکیداروں نے سرکاری کاموں اور پرائیویٹ افراد نے بھی تعمیراتی کام بند کرنا شروع کر دیئے۔ تعمیراتی شعبہ کے میٹریل کی مصنوعی قلت ظاہر کر کے ریٹ ڈبل کر کے شہریوں کو لوٹنا شروع کر رکھا ہے جس پر شہری حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا کہ تعمیراتی میٹریل مہنگا اور تعمیراتی کام بند ہونے سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہو گا۔ تاہم تعمیراتی میٹریل کے بڑھتے ہوئے ریٹ پر ڈپٹی کمشنر فیصل آباد محمد علی نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے اس شعبہ سے وابستہ افراد کا اجلاس آج طلب کر لیا ہے اور مصنوعی بحران پیدا کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن اور مصنوعی مہنگائی کے مرتکب افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…