ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے کا 1972 کا قانون ختم کرنے کا فرمان جاری کر دیا

datetime 29  اگست‬‮  2020 |

دبئی( آن لائن )متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے کا 1972 کا قانون ختم کرنے کا فرمان جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق 1972 میں بنائے گئے قانون کو ختم کر دیا ہے اور اب اس حوالے سے فرمان بھی جاری ہو چکا ہے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد دونوں ممالک میں سفارتی، تحقیقی ، سائنسی اور طبی میدانوں میں رابطے بحال ہو چکے ہیں۔اور اب صدر شیخ خلیفہ نے اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق دہائیوں پرانے فیصلے کو ختم کرنے کا وفاقی قانون جاری کیا۔یہ حکم اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعاون کو بڑھانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سامنے آیا ہے۔اس قانون کے خاتمے کے بعد متحدہ عرب امارات میں افراد یا دیگر کمپنیاں تجارتی یا کسی بھی نوعیت کے معاملات میں اسرائیل کے کسی بھی فرد یا اداروں کے ساتھ معاہدے کر سکتا ہے۔جب کہ اس قانون کے خاتمے کے بعد متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی سامان ،مصنوعات کی ترسیل اور کاروبار جائز ہو گا۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خصوصی ٹوئٹس کیے گئے۔امریکی صدر کی جانب سے کیے گئے ٹوئٹس میں اعلان کیا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنی ٹوئٹس میں معاہدے کا اعلامیہ شیئر کی گئیں۔ امریکی صدر اور میڈیا کی جانب سے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا گیا تھا۔

جبکہ غیر ملکی میڈیا دعوی کر رہا تھا کہ اس معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مکمل طور پر بحال ہو جائیں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں چلیں گی، جبکہ سفارتی سطح پر جلد مذاکرات کا آغاز ہوگا۔گیا، متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور گارغش نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے مابین براہ راست مذاکرات کی واپسی کی تجویز دی ہے کیونکہ فریقین ہی اس تنازعہ کے مستقل اور پائیدار حل تک پہنچنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معیشت، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون پر اتفاق ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…