جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کویت سے تین لاکھ 60 ہزار تارکِ وطن مزدوروںکو نکالنے کی تیاریاں

datetime 12  اگست‬‮  2020 |

کویت سٹی (این این آئی )کویت سے تین لاکھ 60 ہزار تارکِ وطن مزدوروں کو ان کے آبائی ممالک میں بھیجنے کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔ اس ضمن میں کویتی حکومت اور قومی اسمبلی دونوں متفقہ طور پرطویل المیعاد اور قلیل المیعاد اقدامات پر غور کررہے ہیں۔امریکی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت ملک سے ایک لاکھ 20 ہزار غیر قانونی غیرملکی ورکروں اور 60 سال سے

زاید عمر کے تارکینِ وطن کو بے دخل کرنا چاہتی ہے۔ان میں ملازمین ،دوسروں کے زیرکفالت افراد اور دائمی امراض کا شکار مریض شامل ہیں۔اخبار نے قومی اسمبلی کی افرادی قوت وسائل کی ترقی کی کمیٹی کے رکن اسامہ الشاہین کے حوالے سے بتایا کہ حکومت 90 ہزار ناخواندہ مزدوروں کو بھی ملک سے بے دخل کرنا چاہتی ہے،اسمبلی کے ایک اور رکن خلیل الصالح کے مطابق سماجی بہبود کی وزیر مریم العقیل سے کہا گیا کہ وہ غیرملکی تارکِ وطن مزدوروں کو واپس بھیجنے کے بارے میں منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ایک نظام الاوقات پیش کریں۔اس میں یہ واضح کیا گیا ہوکہ ہر سال کتنے مزدوروں کو واپس بھیجا جائے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اس منصوبے پر عمل درآمد سے متعلق اسی ہفتے کے آخر میں اسمبلی میں ایک بل بھی پیش کرنا ہوگا۔ اس کے بعد کمیٹی آیندہ ہفتے تک اپنی ایک رپورٹ تیار کرے گی اور پھر اس کو رائے شماری کے لیے اسمبلی میں پیش کرے گی۔حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق کویت کی آبادی میں 2005 سے 2019 کے درمیان 55 فی صد اضافہ ہوا ہے اور یہ 13 لاکھ 30 ہزار نفوس بنتے ہیں۔اس عرصے کے دوران میں تارکین وطن کی آبادی میں 130 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور ان کی تعداد30 لاکھ 80 ہزار ہوگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…