جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

فیض احمد فیض کی نظم’’ہم دیکھیں گے‘‘ ہندو مخالف تو نہیں؟بھارت میں تفتیش کا حکم

datetime 3  جنوری‬‮  2020 |

کانپور (این این آئی)بھارت میں ٹیکنالوجی کے سب سے باوقار اداروں میں سے ایک آئی آئی ٹی کانپور نے اردو کے عظیم شاعر فیض احمد فیض (1984-1911) کی ایک بے حد مقبول نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘ کی تفتیش کا حکم دیدیا ہے۔ تفتیش کرنے والی کمیٹی کو یہ طے کرنا ہے کہ ان کی یہ

نظم ہندو مخالف ہے یا نہیں؟بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت میں شہریت کے قانون کے خلاف پورے ملک میں احتجاج اورمظاہرے ہو رہے ہیں۔ 15 دسمبر 2019 کو دہلی کے جامعہ علاقے میں اس قانون کے خلاف مظاہرہ ہوا جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے بعض طلباء بھی شامل تھے۔ اس دوران پولیس نے یونیورسٹی کی لائبریری اور ہوسٹل میں زبردستی داخل ہوکر طلباء پر بے حد تشدد کیا۔جامعہ ملیہ یونیورسٹی میں پولیس کی پرتشدد کارروائی کے بعد دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی طرح آئی آئی ٹی کانپور کے طلباء نے 17 دسمبر کو ادارے کے کمپاؤنڈ میں مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کے دوران بعض طلباء  نے فیض احمد فیض کی نظم ’’ہم دیکھیں گے‘‘گائی۔انسٹیٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر منندر اگروال کے مطابق اس کے بعد آئی آئی ٹی کے بعض طلباء نے ادارے کے ڈائریکٹر سے تحریری شکایت کی کہ مظاہرے کے دوران ہندو مخالف نظم پڑھی گئی ہے جس سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں لہذا ان طلباء کے خلاف کارروائی کی جائے جنھوں نے یہ نظم پڑھی ہے۔اس شکایت کے موصول ہونے کے بعد ادارے نے ایک کمیٹی تشکیل دی جو اس شکایت سے متعلق تفتیش کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…