ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوطالبان کا اہم پیغام جاری،بڑا دعویٰ کردیاگیا

datetime 22  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل(آئی این پی) افغان طالبان نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے انہیں خبردار کیا ہے کہ وہ سابق صدر جارج بش اور اوباما کی پالیسی اپنانے سے گریز کریں۔افغان خبر رساں ادارے’’ خاما پریس ‘‘کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عہدہ صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد طالبان نے ان کے نام پیغام جاری کیا۔اپنے پیغام میں طالبان نے کہا کہ اگر ٹرمپ بھی سابق امریکی صدور براک اوباما اور جارج بش کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں گے تو افغانستان میں تشدد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

طالبان کی جانب سے یہ دعوی بھی کیا گیا کہ گزشتہ 16 برس سے جاری افغانستان میں امریکی سربراہی میں اتحادی افواج کی مداخلت کی وجہ سے تباہی، انسانی جانوں کا ضیاع اور اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا۔طالبان نے یہ بھی کہا کہ امریکی مداخلت اور طاقت کے استعمال سے افغانستان کے لوگوں میں امریکا کا منفی تاثر قائم ہوا اور اس کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے تاحال افغانستان اور اس خطے کے حوالے سے اپنی پالیسی کا اعلان نہیں کیا ہے۔8 نومبر کو جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی انتخاب میں کامیاب ہوئے تھے تو اس وقت بھی افغان طالبان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا جس میں ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا گیا تھا کہ افغانستان میں جنگ کی ناکامی کے باعث امریکی فوج اور معیشت پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ساتھ ہی مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان سے امریکی فوج کو واپس بلا لیا جائے۔حالانکہ افغانستان کی حکومت نئے امریکی صدر کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پر عزم ہے۔گزشتہ روز ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ نے کہا تھا کہ ہمیں امید ہے امریکا افغان حکومت کی حمایت جاری رکھے گا۔واضح رہے کہ واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملے کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملے کا آغاز کیا تھا۔امریکا کی جانب سے ان حملوں کا ذمہ دار عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ اور اس کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا گیا،

سابق امریکی صدر جارج بش نے اسامہ کے میزبان ملک افغانستان پر یلغار کردی، جس کے بعد دہشت گردی کے جن نے پوری دنیا کو لپیٹ میں لے لیا۔ایک عشرے سے زائد جاری رہنے والی جنگ میں شدت پسندوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں افغان شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد بے گھر ہوگئے۔ امریکا نے اسامہ بن لادن کو اپنا اولین دشمن قرار دیا اور ان کی تلاش میں افغانستان میں بے شمار کارروائیاں کیں اور بالآخر مئی 2011 میں امریکا نے اپنے سب سے بڑے دشمن اسامہ بن لادن کو ابیٹ آباد میں ہلاک کرنے کا دعوی کیا۔نائن الیون نے امریکا کی پیشگی حملوں کی پالیسی یعنی ‘بش ڈاکٹرائن’ کو جنم دیا اور افغانستان ،شمالی کوریا، عراق اور ایران برائی کا محور قرار پائے اور اسی پالیسی کے تحت امریکا نے ان ممالک میں کارروائیوں کا آغاز کیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 3ہزار امریکیوں کے بدلے امریکا نے لاکھوں افراد کو ہلاک کردیا، لاکھوں زخمی اور معذور جبکہ ہزاروں گرفتار ہوئے، اس کے علاوہ گوانتانامو اور ابوغریب جیسے بدنام زمانہ عقوبت خانے وجود میں آئے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…