جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

ترک خاتون رکن پارلیمنٹ سے بدسلوکی،ترکی اور جرمنی میں ٹھن گئی،اردوان نے انتہائی قدم اُٹھالیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2016 |

انقرہ/برلن(این این آئی)ترک حکمران جماعت (اے کے پی) کی ایک رکن کے ساتھ جرمنی کے کولون بون ہوائی اڈے پر مبینہ نامناسب سلوک پر انقرہ حکومت کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ترک سیاستدان کے پاس ان کا ’سفارتی پاسپورٹ‘ نہیں تھا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایردوآن نے جرمنی کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے ملک میں دہشت گردوں کا تو مہمان کے طور پر استقبال کرتے ہیں لیکن ترک پارلیمان کی نائب صدر اور اس کے وفد کو گھنٹوں تک اپنے دروازے پر انتظار کرواتے ہیں۔تایا گیا ہے کہ عائشہ نور کو اس وجہ سے ہوائی اڈے پر ایک گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا کیونکہ ان کے سفری دستاویزات مکمل نہیں تھے۔

عائشہ نور نے اعتراض کیا ہے کہ اس دوران انہیں ایک ایسے کمرے میں بٹھا دیا گیا، جہاں پر غیر قانونی تارکین وطن کو رکھا گیا تھا۔ ترک پارلیمان کے نائب صدر نے یہ بھی کہا کہ ان کے ساتھ پولیس کا رویہ انتہائی نا مناسب تھا۔اس خبر کے بعد ترک وزارت خارجہ نے انقرہ میں تعینات جرمن سفیر کو مارٹن ایرڈمان کو اس واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ جرمن حکام نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایرڈمان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس ’سفارتی واقعے‘ پر بات چیت کے لیے ترک وزارت خارجہ میں آئیں۔ اس سے قبل کہا جا رہا تھا کہ جرمن سفیر کو انقرہ حکام نے طلب کیا ہے۔ سفارتی ضوابط کے مطابق کسی دوسرے ملک کے سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کرنے کو دعوت دینے کے مقابلے میں انتہائی شدید ردعمل میں شمار کیا جاتا ہے۔ترک ذرائع کے مطابق عائشہ نور کا وہ بیگ چوری ہو گیا تھا، جس میں ان کے تمام دستاویزات تھے۔

اسی وجہ سے ترک قونصل خانے نے انہیں ایک متبادل پاسپورٹ جاری کیا تھا۔ جرمن حکام نے بتایا کہ یکم دسمبر کو جب عائشہ نور باخ چیکاپیلے ترکی واپس جانا چاہتی تھیں اور اس موقع پر ان کی جانب سے پیش کیے جانے دستاویزات سے یہ واضح نہیں ہوتا تھا کہ انہیں سفارتی استثنٰی حاصل ہے، ’’اس کے بعد پولیس نے دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے ترک سفارت خانے سے رابط کیا، جس میں تقریباً پینتالیس منٹ لگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…