واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) 25 سالہ امریکی شہری ریان لورانس نے اپنی دو سال سے کم عمرکی بچی ماڈوکس لورانس کو بیس بال کے بیٹ سے تشدد کر نے کے بعد اسے قتل کر کے نعش کو آگ لگا کر جلایا اور جلی ہوئی نعش کو دریائے ’سیراکیوز‘ کی موجوں کی نذر کردیا۔امریکی پراسیکیوٹر اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مْلزم والد کو معصوم اور بے گناہ بیٹی کے قتل کے جرم میں گرفتارکیا گیا ہے۔ اس کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے۔ ملزم نے اعتراف جرم کیا ہے۔ اس لیے اگلے ماہ اسے عدالت کی طرف سے بیٹی کیوحشیانہ قتل کے جرم میں کم سے کم 25 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ تاہم قاتل کے وکلاء4 کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کا ذہنی توازن بھی درست نہیں ہے اور وہ نفسیاتی مریض ہے۔میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ریان لورانس نامی شخص نے اپنی کم عمر بیٹی کو ملنے والی عزت اور لوگوں کی شفقت پر حسد کے باعث اسے قتل کیا۔ اکیس ماہ کی ماڈوکس لورانس کی آنکھ میں کینسر تھا۔ وہ کئی ماہ تک اسپتال میں زیرعلاج رہی۔ مسلسل علاج سے بیٹی شفایاب ہوگئی۔ جہاں جہاں تک بچی اور اس کے والدین کی واقفیت تھی لوگوں نے سرطان کی مریضہ کو بہت زیادہ پیار دیا مگر باپ کو بیٹی کو ملنے والی یہ عزت برداشت نہ ہوسکی اور اس نے حسد کی آگ میں جلتے ہوئے بیٹی کی جان لے لی۔
بدبخت باپ کا بیٹی کا ساتھ ایسا اقدام کہ جان کر آپ بھی کانوں کو ہاتھ لگائیں گے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا
-
شادی شدہ مرد کا کسی غیر لڑکی سے تعلق جرم نہیں، عدالت کا اہم فیصلہ
-
تمکنت منصور نے پاکستانی ایپسٹین کو بے نقاب کر دیا
-
4 اپریل کو عام تعطیل کا اعلان
-
یکم اپریل سے تعلیمی ادارے ہفتے میں کتنے دن کھلیں گے؟ بڑا اعلان ہوگیا
-
راولپنڈی میں ڈرائیور اور کنڈکٹر نے مسافر ویگن میں 19سالہ شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ ب...
-
عرب ٹی وی کے پروگرام میں سینیٹر مشاہد حسین اور اسرائیلی قومی سلامتی کے سابق مشیر میں بحث ہو گئی۔۔۔ و...
-
ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں بڑا اضافہ
-
نئے فارمولے کے تحت فکسڈ چارجز، بجلی صارفین کا بل کئی گنا بڑھ گیا
-
پی ٹی آئی کے اہم رہنما نے عدالت میں سرنڈر کر دیا
-
سونے کی قیمت نے پھر اڑان بھر لی
-
750روپے کا پرائز بانڈ رکھنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے اہم فیصلہ
-
اپریل میں بارش کے نئے سلسلے کے حوالے سے نئی ایڈوائزری جاری



















































