بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

متحدہ نے سندھ اسمبلی میں ٹمبر مارکیٹ واقعے پر تحریک التوا جمع کرا دی

datetime 29  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ اسمبلی میں ٹمبر مارکیٹ واقعے پر تحریک التوا، سانحہ پشاور اور مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کے لئے سندھ اسمبلی میں قرارداد اور کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیئے جانے کے لئے سندھ اسمبلی میں بل جمع کرادیا۔سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں مختلف امور پر غور کیا گیا جس کے بعد ایم کیو ایم نے ٹمبر مارکیٹ واقعے پر تحریک التوا، مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کے لئے قرارداد اور کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیئے جانے کے لئے بل کا مسودہ سندھ اسمبلی کے سیکریٹری کے دفتر میں جمع کرادیا۔تحریک التوااور قراردادیں جمع کرانے کے بعد سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ پشاور میں پاکستان کے مستقبل کو نشانہ بنایا گیا، اگر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے بیانات پر توجہ دی جاتی تو سانحہ پیش نہ آتا،سانحہ پشاور پر بھی قرارداد مذمت جمع کرائی ہے، سندھ اسمبلی میں ٹمبر مارکیٹ میں لگنے والی آگ اور حکومتی لاپرواہی کے معاملات اٹھائیں گے، اس کے علاوہ ایک بل بھی جمع کرایا گیا ہے جو کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیئے جانے سے متعلق ہے۔اس موقع پر خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے کسی تفریق کے بغیر میرٹ پر نوکریاں دیں، ٹمبر مارکیٹ کی آگ اگر سازش ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے، پیپلزپارٹی کے چیرمین اور شریک چیرمین سندھ میں پیپلزپارٹی کی کارکردگی کاجائزہ لیں، مولانا عبدالعزیز کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…