الطاف حسین کیخلاف شواہد قابل اعتبار، سنگین الزامات،اب ان کے ساتھ کیا ہوگا؟ وکیل نے بڑی پیش گوئی کردی

  بدھ‬‮ 12 جون‬‮ 2019  |  19:08

لندن(این این آئی)برطانیہ میں پاکستان کے وکیل ٹو بی کیڈمین نے کہا ہے کہ الطاف حسین کے خلاف شواہد تفصیلی اور قابل اعتبار ہیں جس کے نتیجے میں بہت سنگین الزامات سامنے آسکتے ہیں اور ان سنگین الزامات کے نتیجے میں بانی ایم کیو ایم کو قید کی سزا ہوسکتی ہے۔برطانیہ میں پاکستان کے وکیل ٹوبی کیڈ مین نے ایک انٹرویو میں بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کے حوالے سے کہاکہ الطاف حسین سے متعلق یہ بہت اہم اقدام ہے، ہمیں علم تھا الطاف حسین سے نفرت انگیز تقریر معاملے پر میٹروپولیٹن تفتیش کرے گی۔انہوں نے کہا کہ فیصلہ


کیاجائے گا بانی ایم کیو ایم کو کن الزامات کا سامنا کرنا ہوگا، توقع کرتے ہیں یہ پیش رفت بہت جلد ہوگی، عام طور پر ایسا فیصلہ گرفتاری کے 24 گھنٹے کے اندر کیا جاتا ہے، توقع کرتے ہیں بانی ایم کیو ایم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے اور پیشی کے بعد کارروائی کا آغاز ہوگا۔پاکستان کے وکیل نے کہا کہ میں نے پاکستانی حکام خصوصاً ایف آئی اے کے پاس موجود شواہد کاجائزہ لیا ہے، ایف آئی اے نے یہ شواہد لندن کی میٹروپولیس کو فراہم کیے ہیں، شواہد دیکھ کر کہہ سکتاہوں یہ بہت زبردست کیس ہے، میرا خیال ہے الطاف حسین پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے کافی شواہد ہیں، یہ کرائم پراسیکیوشن سروس کا معاملہ ہے جو لندن پولیس سے مشاورت کیساتھ کرے گی۔کیڈمین نے کہا کہ الطاف حسین کے خلاف شواہد تفصیلی اور قابل اعتبار ہیں، مضبوط شواہد کے نتیجے میں بہت سنگین الزامات سامنے آسکتے ہیں، ان سنگین الزامات کے نتیجے میں الطاف حسین کو قید کی سزا ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کے کرائم کا کچھ حصہ برطانیہ کی سرزمین پر سرزد ہوا ہے، ان پر الزام ہے کہ نفرت انگیز تقریر برطانیہ سے اور تشدد کے واقعات پاکستان میں ہوئے، الطاف حسین کے خلاف کیس دو ریاستوں میں آتاہے، کیس میں شواہد برطانیہ کی سرزمین پر بھی ہیں، میٹرو پولیس نے شواہد پاکستان سے بھی حاصل کیے ہیں، اس کیس میں اٹارنی جنرل کی اجازت لی جاسکتی ہے۔پاکستان کے وکیل نے بتایا کہ الطاف حسین پر الزامات عائد کیے جانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں،ان کو حراست میں رکھا یا ضمانت پر رہا بھی کیا جاسکتا ہے، بانی ایم کیو ایم کو بہر حال مجسٹریٹ کے سامنے پیش اور ٹرائل کا سامنا کرنا ہوگا، اس سارے عمل میں دن، ہفتے یا مہینے بھی لگ سکتے ہیں، لندن پولیس یا کرائم پراسیکیوشن سروس سمجھے کہ شواہد مضبوط نہیں تو اور بھی راستے ہیں، حکومت پاکستان چاہے تواس فیصلے پر عدالتی نظر ثانی کیلئے چیلنج کرسکتی ہے، جوڈیشل ریویو کے لیے معاملہ چیلنج کرنا مشکل ہوگا تاہم حکومت پاکستان کیلئے یہ راستہ کھلا ہے، بانی ایم کیو ایم کے خلاف کیس میں پرائیوٹ پراسیکیوشن کا بھی راستہ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم چاہیں گے برطانوی حکام کرائم پراسیکیوشن سروس کے ذریعے بانی ایم کیو ایم کے خلاف مقدمہ چلائیں، الطاف حسین کے خلاف گواہان شواہد دینے کو تیار ہیں۔دوسری جانب لندن پولیس نے بانی ایم کیوایم کو مزید 12 گھنٹے حراست میں رکھنے کی درخواست دیدی ہے۔الطاف حسین کی 24 گھنٹے کیلئے حراست کا وقت پورا ہونے کے بعد انہیں مزید حراست میں رکھا جائے گا جس کے لیے درخواست ساؤتھ ورک پولیس اسٹیشن کے سپرنٹنڈنٹ نے دی ہے۔واضح رہے کہ لندن پولیس نے الطاف حسین کو گزشتہ روز ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا ان پر منی لانڈرنگ اور نفرت انگیز تقریر سے تشدد پر اکسانے کے الزامات ہیں۔

موضوعات:

loading...