ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

نوازشریف کیخلاف پاکپتن درباراراضی کیس سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 15  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی ) سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف پاکپتن دربار اراضی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کیخلاف پاکپتن دربار اراضی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت عظمی میں سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی رپورٹ آچکی ہے۔

افتخار گیلانی نے کہا کہ 29 سال بعد سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیا، اس کیس میں 1986 کے وزیراعلی کو بھی نوٹس کیا گیا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ دربار کی اراضی اوقاف کی یا سرکار کی ہے؟، افتخار گیلانی نے کہا کہ اوقاف صرف دیکھ بھال کرتا ہے اپنی کوئی ملکیت نہیں ہوتی۔سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں رفیق رجوانہ پیش ہوئے، انہوں نے عدالت عظمی کو بتایا کہ اراضی سجادہ نشین کو صرف دیکھ بھال کے لیے دی گئی۔رفیق رجوانہ نے کہا کہ سجادہ نشین نے زمین آگے فروخت کردی، زمین واپس لینے کا نوٹیفکیشن سیکرٹری اوقاف نے جاری کیا۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا سارے معاملے میں کوئی کردارنہیں، سمری دستخط کرتے وقت کسی نے نہیں سوچا کے آگے کیا ہو گا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سرکاری زمین کا تحفظ ہونا چاہیے، عدالت عظمی نے ریمارکس دیے کہ زمین کی الاٹمنٹ سمری اس وقت کے وزیراعلی نے منظور کی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الاٹمنٹ کا فیصلہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی تھی، حقائق کے لیے جے آئی ٹی بنوا کر تحقیقات کرائیں۔ رفیق رجوانہ نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ ون مین رپورٹ ہے۔بعدازاں سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف پاکپتن دربار اراضی منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی ہوگئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…