ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

نقیب اللہ قتل کیس : سرکاری وکیل کو سنگین دھمکیاں ملنے کا انکشافٗ عدالت میں پیش ہونے سے انکار کر دیا، پیشی کے دوران مرکزی ملزم رائو انوار و دیگر کوکیس وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے؟

datetime 19  مئی‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ایجنسیاں)نقیب اللہ قتل کیس کے وکیل استغاثہ سنگین دھمکیوں کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ سرکاری وکلا نے عدالتی نوٹس وصول کرنے سے معذرت کرلی ہے جبکہ نامزد ملزم ڈی ایس پی قمر احمد نے ضمانت کی درخواست دائر کر دی۔ہفتہ کو کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نقیب اللہ قتل کیس کی سماعت ہوئی، جیل حکام نے سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار

سمیت دیگر ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کردیا۔ مقدمے کی سماعت بند کمرے میں ہوئی۔ تفتیشی افسرنے سی سی ٹی وی فوٹیج پر مشتمل سی ڈی اور دیگر شواہد عدالت کے روبرو پیش کردیئے تاہم مقدمے کے وکیل استغاثہ علی رضا ایڈووکیٹ پیش نہ ہوئے ان کی جگہ دیگر سرکاری وکلا پیش ہوئے۔سماعت کے دوران صورت حال اس وقت پیچیدہ ہوگئی جبکہ سرکاری وکلا نے عدالتی نوٹس وصول کرنے سے انکار کردیا، جس پر فاضل جج نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے سرکاری وکلا نوٹس بھی وصول نہیں کررہے، میں نے پہلے ہی ہائی کورٹ کو لکھا تھا کہ کیس بھیج رہے ہیں توعملہ اور سرکاری وکیل بھی بھیجیں۔ عدالت نے پیش کردہ سی ڈی کی کاپیاں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ مقدمے کے وکیل استغاثہ علی رضا عدالت میں پیش نہیں ہوئے، ان کی عدم موجودگی کے باعث دیگر سرکاری وکلا پیش ہوئے۔ سرکاری وکلا نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ علی رضا کا کہنا ہے کہ وہ رائو انوار کے مقدمے میں پیش نہیں ہوسکتا، اسے دھمکیاں مل رہی ہیں۔انسداد دہشت گردی کی عدالت مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کر رہی ہے جس کے دوران مقدمے میں نامزد ملزم ڈی ایس پی قمر احمد نے ضمانت کی درخواست دائر کر دی۔پولیس نے مفرور ملزمان شعیب شوٹر، امان اللہ مروت اور دیگر کی عدم گرفتاری سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش

کی جس میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ تاحال مفرور ملزمان کاسراغ نہیں لگایا جا سکا، ملزمان کو گرفتار کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔دورانِ سماعت رائو انوار کو جیل میں بی کلاس کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق درخواست پر وکلا نے دلائل دیئے۔کیس کی مزید سماعت 28 مئی کو ہوگی۔جیل حکام نے راؤ انوار کو اورنج رنگ کی جیکٹ سے استثنا دے دیا اور سابق ایس ایس پی کو ہتھکڑی

لگائے بغیر سادہ کپڑوں میں عدالت لایا گیا۔واضح رہے کہ زیر سماعت مقدمات کے ملزمان کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنانا ضروری ہے اور عدالتی ریمانڈ پر لائے گئے ہر ملزم کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنائی جاتی ہے۔جبکہ کرپشن الزام میں گرفتار کئی اعلی پولیس افسران کو بھی اورنج جیکٹ پہنا کر عدالت لایا جاتا ہے۔تاہم ڈی ایس پی قمر احمد سمیت نقیب اللہ قتل کیس کے باقی تمام ملزمان کو اورنج رنگ کی جیکٹ پہنائی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…