منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ ہو گا؟ پنجاب حکومت نےمالی سال 27-2026کےبجٹ خدوخال کوحتمی شکل دے دی

datetime 10  جون‬‮  2026 |

لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری مکمل کرتے ہوئے اس کے اہم خدوخال کو حتمی شکل دے دی ہے۔

مجوزہ بجٹ کا مجموعی حجم 5 ہزار 131 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت آئی ایم ایف کے مالیاتی اہداف کی تکمیل میں وفاقی حکومت کی معاونت کے لیے 570 ارب روپے کی مالی گنجائش فراہم کرے گی۔ نئے مالی سال میں پنجاب کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابلِ تقسیم محصولات سے تقریباً 3 ہزار 793 ارب 70 کروڑ روپے موصول ہونے کی توقع ہے۔

صوبائی سطح پر محصولات کی مد میں 1 ہزار 330 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے جبکہ پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 505 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

حکومتی امور اور انتظامی اخراجات پورے کرنے کے لیے 580 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ مختلف ترقیاتی اور سرمایہ کاری پروگراموں کے لیے 221 ارب 90 کروڑ روپے رکھے جائیں گے۔

بیرونی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ دیگر ترقیاتی اور سرمایہ جاتی منصوبوں پر 570 ارب روپے خرچ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

بجٹ تخمینوں کے مطابق پنجاب کے مجموعی اخراجات 3 ہزار 569 ارب 60 کروڑ روپے تک رہیں گے۔ ان اخراجات کے بعد صوبے کے پاس تقریباً 1 ہزار 562 ارب 20 کروڑ روپے کی ترقیاتی اور مالیاتی گنجائش دستیاب ہوگی، جسے مختلف عوامی فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں پر استعمال کیا جا سکے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…