لاہور (نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاری مکمل کرتے ہوئے اس کے اہم خدوخال کو حتمی شکل دے دی ہے۔
مجوزہ بجٹ کا مجموعی حجم 5 ہزار 131 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت آئی ایم ایف کے مالیاتی اہداف کی تکمیل میں وفاقی حکومت کی معاونت کے لیے 570 ارب روپے کی مالی گنجائش فراہم کرے گی۔ نئے مالی سال میں پنجاب کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت قابلِ تقسیم محصولات سے تقریباً 3 ہزار 793 ارب 70 کروڑ روپے موصول ہونے کی توقع ہے۔
صوبائی سطح پر محصولات کی مد میں 1 ہزار 330 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے جبکہ پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 505 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ سماجی بہبود کے منصوبوں کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
حکومتی امور اور انتظامی اخراجات پورے کرنے کے لیے 580 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ مختلف ترقیاتی اور سرمایہ کاری پروگراموں کے لیے 221 ارب 90 کروڑ روپے رکھے جائیں گے۔
بیرونی مالی معاونت سے جاری منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ دیگر ترقیاتی اور سرمایہ جاتی منصوبوں پر 570 ارب روپے خرچ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
بجٹ تخمینوں کے مطابق پنجاب کے مجموعی اخراجات 3 ہزار 569 ارب 60 کروڑ روپے تک رہیں گے۔ ان اخراجات کے بعد صوبے کے پاس تقریباً 1 ہزار 562 ارب 20 کروڑ روپے کی ترقیاتی اور مالیاتی گنجائش دستیاب ہوگی، جسے مختلف عوامی فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں پر استعمال کیا جا سکے گا۔



















































