جمعہ‬‮ ، 29 مئی‬‮‬‮ 2026 

پلازمہ حاصل کرنے والے کووِڈ مریضوں میں موت کی شرح کتنی ہے؟امریکی تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 23  مئی‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)امریکہ میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے کسی شخص سے پلازمہ حاصل کر کے کووِڈ-19 سے شدید بیمار پڑنے والے افراد کو لگایا جائے تو ان کی حالت سنبھلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ انھیں ہسپتال میں داخل دیگر مریضوں کی بہ نسبت کم آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔

تحقیق کے مطابق جو لوگ کووِڈ 19 جیسے کسی انفیکشن سے بچ جاتے ہیں، ان کے خون میں ایسی اینٹی باڈیز یعنی پروٹین پیدا ہوجاتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو وائرس سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔خون کا وہ جزو جو ان اینٹی باڈیز کا حامل ہوتا ہے اور جسے دوسرے لوگوں کو لگایا جا سکتا ہے اسے پلازمہ کہتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیو یارک کے ماؤنٹ سینائی میڈیکل سینٹر کے محققین نے بتایا کہ یہ تحقیق جان بچنے کے رجحان میں بہتری کی جان اشارہ کرتی ہے مگر زیرِ مطالعہ مریضوں کی تعداد کم تھی اور ان نتائج کا اطلاق وینٹیلیٹر پر موجود مریضوں سے نہیں کیا جا سکتا۔محققین نے ہسپتال میں کووِڈ-19 کی شدید علامات کے حامل 39 مریضوں کے نتائج کا تجزیہ کیا جنھیں پلازمہ دیا گیا تھا۔ ان مریضوں کا موازنہ ان مریضوں سے کیا گیا جن کی حالت ان ہی جیسی تھی مگر جنھیں پلازمہ نہیں دیا گیا تھا۔تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر نائکول بوویئر نے بتایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پلازمہ مؤثر ہے مگر یہ ایک مکمل طبی آزمائش نہیں ہے، اس لیے ایسا کرنا ابھی ضروری ہے۔39 میں سے 70 فیصد مریض آکسیجن کی بلند مقدار حاصل کر رہے تھے جبکہ 10 فیصد وینٹیلیٹر پر تھے۔ دو ہفتے بعد پلازمہ حاصل کرنے والے 18 فیصد مریضوں کی حالت بگڑی جبکہ باقی مریضوں میں سے 24 فیصد مریضوں کی۔یکم مئی تک پلازمہ حاصل کرنے والے 13 فیصد افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے گروپ سے 24 فیصد افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح پلازمہ حاصل کرنے والے گروپ میں ہسپتال سے فارغ ہونے کی شرح 72 فیصد رہی جبکہ دوسرے گروہ میں یہ شرح 67 فیصد تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…