ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

دعا ہے اللہ تعالی اس غلاظت زدہ شخص اور اسکے فالورز کی شکل کو بگاڑ دے لائٹ ویٹ چیمپئن خبیب نور نے فرانس کے صدر کوآڑے ہاتھوں لے لیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد،جنیوا(مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی)توہین آمیز بیان ،یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپئن خبیب نورماگومیدو نے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ انسٹا گرام پر شیئر

کی گئی ایک پوسٹ میں خبیب نے فرانسیسی صدر کے لیے سخت الفاظ میں لکھا کہ دعا ہے اللہ تعالی اس غلاظت زدہ شخص اور اس کے فالوورز کی شکل بگاڑ دے ، جو کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں دنیا میں بسنے والے ڈیڑھ بلین سے زائد مسلمانوں کے احساسات اور جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں ، دعا ہے کہ ایسے لوگ اس دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل و رسوا ہوں، اللہ تعالی حساب جلدی لیتے ہیں اور تم لوگ دیکھوگے کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔انہوں نے فرانسیسی صدر میکرون کی ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں ان کے چہرے پر بوٹوں کے نشان دیکھے جاسکتے ہیں، اس موقع پر یو ایف سی لائٹ ویٹ چیمپئن نے مزید لکھا کہ ہم مسلمان اپنے پیارے نبی ۖ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، یہ پیار ہماری ماں پاب اور بیوی بچوں سے بھی بڑھ کر ہے، مجھے پورا یقین ہے کہ فرانس کے صدر کی طرف سے کی جانے والی اشتعال انگیزی لوٹ کر خود اس کی طرف آئے گی کیونکہ ایسے لوگوں کا اختتام ہمیشہ اللہ سے ڈرادینے والا ہوتا ہے۔

اپنے پیغام کے آخر میں خبیب نے قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ یقینا ایسے تمام لوگ جو اللہ اور اس کے پیغمبر ۖکی شان میں گستاخی کرتے ہیں، ان کے لیے اس دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی طرف سے ایک دردناک عذاب ہوگا۔دریں اثنااقوامِ متحدہ کے تہذیبوں

کے اتحادسے متعلق یونٹ کے سربراہ میگول اینجل موراٹینوز نے پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوامِ متحدہ کے نمائندے میگول اینجل نے اس صورتِ حال پر کہا کہ خاکوں

کی اشاعت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور عدم برداشت کے رویوں پر تحفظات ہیں اور اس تمام صورتِ حال کو بغور دیکھا جا رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے نمائندے نے فرانسیسی صدر کے خاکوں کے دفاع کے بیان کا ذکرکیے بغیر کہا کہ ایک مذہب کے عقائد پر حملہ کیا گیا جس نے بے گناہ شہریوں کو کارروائیوں پر اکسایا ۔انہوں نے خبردار کیا کہ مذاہب اور مقدس شخصیات کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات سے نفرتیں جنم لیتی ہیں جو معاشرے کی تقسیم اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…