ہفتہ‬‮ ، 18 جولائی‬‮ 2026 

ہم آج اس لیے زندہ ہیں کیونکہ بس ڈرائیور نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا ،کمار سنگاکارا نے بس ڈرائیور کو ایک بار پھر ہیرو قرار دیدیا

datetime 6  جون‬‮  2020 |

لاہور (آن لائن) سری لنکا کے سابق کپتان کمار سنگاکارا نے لاہور میں ان کی بس پر حملے کے دوران انہیں بچانے والے ڈرائیور کو ایک بار پھر ہیرو قرار دیا ہے۔ 3مارچ 2009ء کے واقعے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم معمول کے مطابق بس میں قذافی سٹیڈیم کی جانب رواں دواں تھے ، سنگاکارا اس وقت اپنی ٹیم کے کپتان تھے، انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں سفر کے دوران کھلاڑی ایک دوسرے سے گپ شپ کررہے تھے۔

ایک انٹرویو دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ہمارا ایک فاسٹ باولر یہ کہہ رہا تھا کہ وکٹ بہت زیادہ فلیٹ ہے، مجھے یوں لگتا ہے کہ مجھے اسٹریس فریکچر نہ ہوجائے ، وہ کھلاڑی گپ شپ کے دوران کہہ رہا تھا کہ کاش کوئی بم دھماکا ہوجائے تو ہم لوگ گھر کو واپس لوٹ جائیں ، سنگا کارا نے انکشاف کیا کہ اس کھلاڑی کی بات ابھی مکمل ہوئے 20 ہی سیکنڈز گزرے تھے کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ، ہم سمجھے کہ کوئی آتش بازی کررہا ہے ، اتنے میں ایک کھلاڑی چلایا کہ’’ نیچے لیٹ جا ، حملہ آور بس کو نشانہ بنارہے ہیں‘‘، تلکارتنے دلشان سامنے ہی بیٹھے ہوئے تھے ، میں وسط میں بیٹھا ہوا تھا ، مہیلا جے وردھنے اور مرلی دھرن میرے عقب میں تھے ، مرلی دھرن تھیلان سماراویرا کے درد کی آواز سن سکتے تھے ، مجھے یاد ہے اوپنر تھرنگا بھی سامنے ہی موجود تھے ، ہم بس کی نشستوں کے بیچ میں چھپے ہوئے تھے ، حملہ آوروں نے بس پر کئی گولیاں برسائیں، گرنیڈ ز بھی پھینکے اور راکٹ لانچر بھی استعمال کیا ، میں نہیں جانتا ہم کس طرح سے بچ گئے ، تھیلان زخمی ہوچکے تھے ، مجھے بھی کندھے پر لوہے وغیرہ کے کئی ٹکڑے لگے ، اجینتھا مینڈس بھی زخمی تھے، تھرنگا کے سینے سے خون بہہ رہا تھا اور اس دوران وہ گر گئے کہ شاید انہیں گولی لگی ہے ، ہمیں ایک دوسرے کی تکلیف سے چلانے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، بدقسمتی سے ہماری سیکورٹی پر مامور تمام افراد مارے جاچکے تھے ، یہ بہت ہی تکلیف دہ عمل تھا ، حملہ آوروں نے ہمارے ڈرائیور کو کئی بار نشانہ بنانے کی کوشش کی ، وہ کئی مرتبہ بال بال بچے ، وہی ہمارے اصل ہیرو تھے ، ہم صرف اسی لئے زندہ بچ گئے کیوں کہ وہ زندہ تھے اور وہ وہاں سے ہمیں زندہ نکال لائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…