جب غار ثور میں پہنچنے کیلئے پہاڑ پر چڑھنے کا وقت تھا تو نبی اکرمﷺ پاؤں کے پنجے لگا رہے تھے اور ہاتھوں کے بل اوپر چڑھ رہے تھے‘ پورا پاؤں نہیں لگا رہے تھے۔ اسی طرح چڑھنے کا مقصد یہ تھا کہ قدموں کے نشان نہ لگیں تاکہ دشمن قدموں کے نشان دیکھ کر پیچھے نہ آ جائیں۔ جب حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ دیکھا کہ محبوبﷺ زمین پر پورے پاؤں نہیں لگا رہے فقط پنجے لگا رہے ہیں تو آپﷺ سے عرض کیا‘ اے اللہ کے محبوبؐ ابوبکر حاضر ہے۔ مہربانی فرمائیے آپ میرے کندھوں پر سوار ہو جائیے‘ چنانچہ نبیﷺ ان کے کندھوں پر سوار ہوئے اور وہ نبی کریمﷺ کو لے کر غار ثور تک پہنچے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































