ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک

datetime 12  جنوری‬‮  2017 |

ایک سیدھا سادا گاہک صراف کی دکان میں داخل ہْوا۔ وہ کبھی اِس شوکیس پر جھک جاتا، کبھی کسی الماری میں جھانکنے لگتا۔ دْکان کا مالک نوکر کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔ اس نے اس معصوم صورت شکل کے گاہک کو دیکھتے ہی یہ اندازہ لگا لیا کہ وہ شہری نہیں ہے، کسی دیہات سے نیا نیا شہر میں داخل ہوا ہے۔ گاہک نے اپنے چاروں طرف سونے چاندی کے زیورات دیکھنے کے باوجود سوال کیا۔ ” جناب! یہاں کیا بکتا ہے”۔ دل جلے دکاندار نے جواب دیا ” بے وقوف! کیا تجھے نظر نہیں آتا کہ یہاں کیا بکتا ہے؟”
گاہک نے بھولے پن سے کہا۔ ” نظر تو سب کچھ آ رہا ہے لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا اسی لیے میں نے یہ سوال کیا تھا کہ یہاں کیا بکتا ہے”۔
دکاندار نے جل کر جواب دیا۔ ” یہاں خچرّ بکتے ہیں”۔
گاہک نے نہایت بھولپن سے دکان دار کو دیکھا اور دریافت کیا۔ ” اچھا! لیکن ایک سوال اور ، یہ تو بتائیے کہ صرف آپ ہی رہ گئے ہیں یا کوئی اور بھی ہے”۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…