جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ایمازون کے گھنے جنگلات میں 40 دن گزارنے والے چار بچوں پر کیا بیتی؟

datetime 17  جون‬‮  2023 |

بگوٹا: کولمبیا میں طیارے کی تباہی کے بعد 40 دن تک ایمازون کے گھنے جنگلات میں گزار کر زندہ بچ جانے والے چار بہن بھائیوں کو پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق یہ بچے ملک کے جنوب میں طیارہ حادثے کا شکار ہوگئے تھے اور ان بچوں کی ماں طیارہ گرنے کے بعد 4 دن تک زندہ رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق زندہ بچ جانے والے بچوں کی عمر 11 ماہ، 4 ،9 اور 13 سال ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق خطرناک جنگل میں زندہ بچ جانے والے بچوں سے کولمبیا کے صدر نے ملاقات بھی کی اور انہوں نے فوج اور رضاکاروں کی کوششوں کو سراہا۔غیرملکی میڈیا کے مطابق طیارہ حادثے کے بعد 13 سالہ لڑکی لیزلی نے درختوں کی شاخوں کو اپنے بالوں میں بندھی پونی سے باندھ کر عارضی خیمہ بنایا تھا۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق خاندان نے انکشاف کیا ہے کہ بچوں میں سب سے بڑی 13 سالہ لیسلی نے ایمازون کے اس گھنے جنگل میں خود کو اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو 40 دن تک زندہ رکھنے کے لیے ’بقا کی جنگ‘ لڑی۔

بچوں کی خالہ دیمارس موکوتوئی نے بتایا کہ کسی بیرونی امداد کے بغیر لیسلی اور نو سالہ سولینی نے زندہ رہنے کے لیے جنگل کے بارے میں اپنی معلومات سے کام لیا۔

کیراکول نیوز نیٹ ورک سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ لیسلی اور سولینی اکثر ایک کھیل کھیلتی تھیں، جس میں وہ کسی بھی قدرتی آفت سے قبل ’چھوٹے کیمپ‘ بناتی تھیں۔

لیسلی نے طیارے کے حادثے کے بعد اسی کھیل سے مدد لی اور بالوں میں باندھنے والے ربنز کی مدد سے کیمپ بنائے اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو جنگل میں محفوظ رکھا، جہاں تیندوے، شیر اور سانپ پائے جاتے ہیں اور مسلح گروہ بھی اس علاقے کو منشیات کی سمگلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لڑکی کے خاندان میں موجود افراد نے بتایا کہ جنگل میں بہت سے زہریلے پھل تھے لیکن لیزلی جانتی تھی کہ جنگل میں انسان کون سے پھلوں کو کھا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیزلی کو چھوٹے بچے کی دیکھ بھال کرنا بھی آتی تھی اور اسے معلوم تھا کہ زندہ رہنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہوگی۔غیرملکی میڈیا کے مطابق اس حوالے سے امدادی آپریشن میں حصہ لینے والے ایک مقامی شخص نے صحافیوں کو بتایا کہ بچوں کو طیارے کے ملبے سے آٹا ملا جسے کھا کر وہ زندہ رہے۔

مقامی شخص کا کہنا تھا کہ بچوں کے پاس جب آٹا ختم ہوگیا تو انھوں نے پھلوں کے بیج بھی کھائے۔رپورٹس کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس جنگل میں بچوں کے طیارے کو حادثہ پیش آیا وہ جنگل بہت وسیع ہے جیسے ایک خلا ہو جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔واضح رہے کہ یکم مئی کو ایک چھوٹا طیارہ کولمبیا کے ایمازون کے قصبے سان ہوزے ڈیل گوویئر کی طرف جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوگیا تھا جس میں پائلٹ سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق ہلاک افراد کی لاشیں طیارے کے اندر سے ملی تھیں تاہم چاروں بچے غائب تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…