جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بیلٹ فائرنگ سے آنکھوں کی بینائی سے محروم طالبہ نے 12ویں جماعت کا امتحان پاس کرلیا

datetime 13  جون‬‮  2023 |

سرینگر (این این آئی) غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی بدترین ریاستی دہشت گردی کا شکار انشا مشتاق نے جس نے 2016 میں پیلٹ فائرنگ سے آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے کے باوجود حال ہی میں12ویں جماعت کا امتحان پاس کیا، کہا ہے کہ اس نے مستقبل میں اپنی زندگی کو خود مختار بنانے کے لئے کئی چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انشا مشتاق نے جن کا تعلق شوپیاں سے ہے، ایک میڈیا انٹرویو میں بتایا کہ وہ کس طرح کامیابی کی منزل تک پہنچی۔انہوں نے کہاکہ میں 12ویں جماعت کے امتحانات پاس کرنے پر بہت خوش ہوں۔ اپنی صحت کے مسائل کے پیش نظر مجھے اس دوران بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ میں ثابت قدم رہی اور چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ میں نے اپنی پڑھائی اور محنت جاری رکھی۔ بالآخر میں کامیابی ہوگئی۔انشا نے کہا کہ وہ اس کامیابی کا سہرا اپنے والدین، اساتذہ، دوستوں اور خیر خواہوں کو دیتی ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا۔23 سالہ انشا مشتاق نے جو 2016 کے احتجاج کے دوران بھارتی فوجیوں کی پیلٹ فائرنگ سے اپنی دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئی تھی، 12ویں جماعت کا بورڈ امتحان اچھے نمبروںکے ساتھ پاس کیاہے۔ امتحان کے نتائج کا اعلان جمعہ کو کیا گیا اور شوپیاں کے سیدو گاؤں سے تعلق رکھنے والے مشتاق لون کی بیٹی انشا مشتاق نے امتحان میں 73 فیصد نمبر حاصل کیے ہیں۔انشا نے کہا کہ وہ اپنے والدین پر بوجھ نہیں بننا چاہتی اور اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی ہے تاکہ اپنی زندگی میں خود مختار بن سکے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے نابینا طلباء کے لیے خصوصی ادارے قائم کرنے اور انہیں مناسب تربیت فراہم کرنے کی بھی اپیل کی تاکہ وہ اپنی زندگی کے مستقبل میں خود مختار بن کر باوقار طریقے سے روزی کما سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…