جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

خط کسی ملک نے نہیں بلکہ ہمارے سفیر نے لکھا ،وزیر اعظم عمران خان

datetime 30  مارچ‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے دھمکی آمیز خط سینئر صحافیوں کو نہیں دکھایا،خط کے مندرجات سے آگاہ کیا،یہ خط ہمارے اپنے سفیر کی جانب سے لکھا گیا ہے،خط سے متعلق ملک کا نام نہیں بتا سکتے۔ذرائع کے مطابق ملاقات میں اسد عمر نے دھمکی آمیز خط سے متعلق بریفنگ دی اور خط سے متعلق صرف مندرجات شیئر کیے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کی، اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے دھمکی آمیز خط سے متعلق بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ خط عسکری قیادت سے شیئر کیا جا چکا ہے، خط میں جو زبان استعمال ہوئی وہ بتا بھی نہیں سکتے۔وزیراعظم نے کہاکہ خط پر پارلیمنٹ کو ان کیمرا بریفنگ دیں گے ،یہ خط ہمارے اپنے سفیر کی جانب سے لکھا گیا ہے۔انہوں نے بتایاکہ خط سے متعلق ملک کا نام نہیں بتا سکتے، خط پر نیشنل سکیورٹی قوانین لاگو ہوتے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق خط کے حوالے سے وزیراعظم نے بتایا کہ خط میں دھمکی دی گئی ہے اور یہ ہماری سالمیت کے خلاف ہے۔وزیراعظم نے صحافیوں سے ملاقات میں خط کے جس حصے کو دھمکی آمیز قرار دیکر تشویش کا اظہار کیا وہ تحریک عدم اعتماد سے متعلق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو سارا کچھ معاف ہوجائیگا ، اگر عمران خان رہتے ہیں کہ ہم خوش نہیں ہوں گے اور پاکستان کیلئے چیزیں مشکل ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسہ عام سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے خط لہرایا تھا اور کہا تھاکہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی، میرے پاس خط ہے اور وہ ثبوت ہے۔

وزیراعظم کے دعوے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے خط سامنے لانے اور ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ زور پکڑ نے لگا ۔ذرائع کے مطابق قبل ازیں وزیراعظم عمراان خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق )کے وفاقی وزیر مونس الٰہی، بی اے پی کی وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے دوران خفیہ خط کے معاملے پر ارکان کو اعتماد میں لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…