ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

عوام کا کابل کے بینکوں پراعتماد ختم ، افغانی گھروں میں ڈالرچھپانے لگے

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کابل (این این آئی)افغانستان میں تحریک طالبان کی حکومت کی جانب سے بنکوں سے رقم نکالنے پر کٹوتی کے فیصلے کے بعد لوگوں نے رقوم بنکوں کے بجائے گھروں میں جمع کرنا شروع کردی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق دارالحکومت کابل کے ایک رہائشی نور اللہ نے بتایا کہ لوگوں کا بینکوں پر سے اعتماد ختم ہو گیا ہے اور اب وہ اپنی رقم ان میں محفوظ نہیں

کرنا چاہتے جیسا کہ وہ پہلے کرتے تھے،کیونکہ انہیں بنکوں سے رقم نکالنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے اور ایک مخصوص رقم سے زیادہ رقم نکالنے کی اجازت بھی نہیں۔دوسری جانب متعدد ماہرین اقتصادیات نے انکشاف کیا کہ اگر بینکنگ کا نظام اسی شرح پر چلتا رہا تو بینک خدمات فراہم نہیں کر سکیں گے اور اس سے ملکی معیشت پر خاصے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔معاشی تجزیہ کار وہاب قاطی نے بتایا کہ بینک ایک اقتصادی ڈھانچہ ہے، جب ہم اپنا پیسہ بینکوں میں جمع کرتے ہیں تو اسے سرمایہ کاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔سنٹرل بینک آف افغانستان کے حکام نے حال ہی میں ایک بیان میں واضح کیا کہ نجی اور سرکاری بینکوں کو صارفین کی رقوم نکالنے کی حد کو بڑھا کر 400 ڈالر فی ہفتہ کرنا چاہیے، لیکن کچھ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ یہ رقم اب بھی کافی نہیں ہے۔کابل کے ایک رہائشی راہنورد نے کہا کہ جتنا زیادہ لوگوں کا پیسہ بینکوں سے نکالا جائے گا، لوگوں میں بینکوں کے حوالے سے اعتماد اتنا ہی کم

ہو گا اور تاجر اپنا سرمایہ ملک سے باہر لے جائیں گے۔طالبان کی حکومت نے افغانستان میں غیر ملکی کرنسیوں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی۔ اچانک کیے گئے اس اقدام سے معیشت متاثر ہو سکتی ہے، جو پہلے ہی زر مبادلہ کی کمی کے بحران کا شکار ہے اور ملک کو مزید تنہا کر سکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…