پیر‬‮ ، 04 مئی‬‮‬‮ 2026 

1400 سے زائد ڈولفنز کوذبح کر دیا گیا جانوروں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے کارکنوں میں غم و غصہ کی لہر

datetime 15  ستمبر‬‮  2021 |

کوپن ہیگن (این این آئی)ڈنمارک کے فیرو جزائر میں ایک روایتی شکار کے حصے کے طور پر ایک ہزار سے زائد ڈولفنز کو ذبح کیے جانے پر جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق جانوروں کے

حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شکار کے دوران تقریباً 15 سو اٹلانٹک سفید چہرے والی ڈولفنز کو چاقوؤں اور برچھیوں سے مارا گیا۔ اس عمل کو ڈنمارک کے جزیروں کے رہائشی ”گرینڈادراپ” کہتے ہیں۔سی شیفرڈ کیمپین گروپ نے سینکڑوں ڈولفنز کی فوٹیج شیئر کی جو ساحل پر مردہ حالت میں پڑی ہیں اور ان کے زخموں سے رسنے والے خون سے سمندر سرخ ہو رہا ہے۔ویڈیو میں ایسے لوگوں کو بھی دکھایا گیا ہے جو کم گہرے پانی میں پھنسی نیم مردہ ڈولفنز کو روکنے اور مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سی شیفرڈ کیمپین گروپ نے فیس بک پر لکھا کہ کل فیرو جزائر نے فیروز کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا مجموعہ ذبح کیا۔بہت سے دیگر لوگوں نے بھی اس عمل سے اپنی بیزاری کا اظہار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔آن لائن کیمپین کرنے والے گروپ بلیو پلینیٹ سوسائٹی نے ٹویٹ کی کہ ‘جزائر فیرو میں کچھ لوگ کل 1428 سفید چہرے والے ڈولفنز کے قابل مذمت شکار کو ‘تاریخ کا سب سے بڑا گرائنڈراپ’ قرار دے رہے ہیں۔اگر یہ درست ہے تو یہ واقعی خوفناک ہے۔اس شکار کی روایت یہ ہے کہ کشتیاں ڈولفن یا وہیل کے ایک گروہ کو گھیر لیتی ہیں اور انہیں ایک خلیج یا لمبی تنگ سی جگہ لے جاتی ہیں جہاں انہیں ان کے گوشت کے لیے قتل کر دیا جاتا ہے۔اب اس عمل کو حکومت کی طرف سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور شکاریوں کو اس عمل کی تربیت حاصل کرنا ہوتی ہے اور انہیں صرف ان خلیجوں تک محدود رہنا ہوتا ہے جن کی حکومت طرف سے اجازت ہے۔جزیرے کی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ ‘جزائر فیرو میں وہیلنگ کو صدیوں سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ شکار اس طرح سے کیا جائے کہ وہیل کو ممکنہ حد تک کم تکلیف پہنچے۔تاہم جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اس عمل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے وہ غیر ضروری اور ظالمانہ قرار دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)


ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…