واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک/ آن لائن ) طالبان نے 20سال بعد دوبارہ امریکا سے نائن الیون واقعات میں اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگ لیے. ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ امریکا کی افغانستان میں فوج کشی بلاجواز تھی اور آج 20 سال بعد بھی اسامہ بن لادن کے نائن الیون حملے میں ملوث ہونے کو ثابت نہیں کیا جا سکا۔امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بار بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ داعش اور دیگر انتہا پسند جماعتوں کو امریکا سمیت کسی بھی دوسرے ملک کی سلامتی کے خلاف افغان سرزمین کو استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ ہم اپنے عہد پر قائم ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی معاہدے کی پاسداری کرے۔اس موقع پر ترجمان طالبان نے امریکا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پر فوج کشی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ اسامہ بن لادن کی نائن الیون حملے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا لیکن نہ تو اْس وقت اور نہ ہی آج 20 سال بعد بھی اس الزام کو درست ثابت کیا جا سکا ہے۔ امریکا اسامہ بن لادن کے نائن الیون میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا ہے ۔
طالبان نے 20سال بعد دوبارہ امریکا سے نائن الیون واقعات میں اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگ لیے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)
-
پیٹرول سبسڈی لینے والوں کےلیےخوشخبری، وزیراعظم کا اہم اعلان
-
تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
متحدہ عرب امارات جانے والی 2 بہنوں اور والدہ کو کیوں آف لوڈ کیا گیا؟ سنسنی خیز انکشافات
-
طالبہ لائبہ کا خودکشی سے قبل والد کیلیے ماموں کے موبائل پر بھیجا گیا آخری پیغام سامنے آگیا
-
طالبہ لائبہ سے فراڈ کرنے والے ملزم کی ابتدائی شناخت سامنے آگئی
-
حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا
-
پی ٹی اے نے موبائل سگنلز کی کمی کی صورت میں کالز کرنے کے لیے آسان حل بتا دیا
-
اسلام آباد میں طالبہ کی مبینہ خودکشی، امریکا جانے کیلیے ایجنٹ کو 50 لاکھ دیے تھے
-
دبئی سے تل ابیب کی پرواز میں پائلٹ پر حملے کا معاملہ، تحقیقات میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے
-
آئندہ تین روز کیلئے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکان
-
ڈاکٹرز اور میڈیکل طلبہ کے لیے بڑی خوشخبری
-
عمان میں ملازمت کے خواہشمند غیر ملکیوں کیلئے خوشخبری
-
سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟



















































