میں نے اللہ کے حوالے کیا، میں نے اللہ کے حوالے کیا نور مقدم کی والدہ کے الفاظ نے سب کی آنکھیں نم کر دیں

  اتوار‬‮ 25 جولائی‬‮ 2021  |  12:09

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی)اسلام آباد میں سابق سفارتکار کی صاحبزدای نور مقدم کو گزشتہ دنوں دفنا دیا گیا ۔ اس موقع پر ان کی والدہ کے الفاظ نے سب کی آنکھوں کو نم کر دیا ۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق اس وحشیانہ حادثہ پر ہر کوئی افسردہ تھا ، میت تابوت میں تھی جبکہ سر تن سے الگ تھا ،ایسے میں گھر سےقبرستان کی جانب میت کو جاتا دیکھ کر نور کیغم سے نڈھال والدہ نے اپنی بیٹی کے چہرے پر جُھک کر کہا ’’ میں نے اللہ کے حوالے کیا، میں نے اللہ


کے حوالے کیا‘‘یہ وہ الفاظ تھے جو وہ بار بار دہرا رہی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق نور کی والدہ کو اس حادثہ کے بارے میں بہت بعد میں بتایا گیا جب وہ پوچھتی کہ اسے گولی لگی ہے تو ہر کوئی یہی کہتا کہ ہاں اسے گولی لگی ہے ۔ دوسری جانب اسلام آباد میں بہیمانہ قتل ہونے والی سابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کو دو روز قبل سپرد خاک کیا گیا۔ اس موقع پر نور مقدم کی والدہ کے الفاظ نے سب کو غمزدہ کر دیا۔ غم سے نڈھال والدہ کو دیکھ کر سب خاموش تھے کیونکہ کسی کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق نور کے گھر پر منظر ویسا ہی تھا جیسے کسی کے دنیا سے چلے جانے پر ہوتا ہے۔اسلام آباد میں قتل ہونے والی نور مقدم کے والد نے کہا ہے کہ میں وزیراعظم سے انصاف چاہتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ انصاف ملے گا اور اگر انصاف نہیں ملا تو میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا ، میں اسکا باپ ہوں۔نور مقدم کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے ملزم ظاہر جعفر کو لاش اور آلہ قتل کے ساتھ گرفتار کیا ہے ، جائے وقوعہ پر میڈیکل ٹیم نے ملزم کو پکڑا اس دوران ملزم نے ٹیم کو گولی مارنے کی بھی کوشش کی تاہم وہ گولی چل نہ سکی جبکہ ٹیم کے ایک ممبر پر چاقو سے حملہ کیا ، اس طرح ملزم پر قتل اور اقدام قتل کے دو کیسز ہیں۔واضح رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیشی کے موقع پر نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر نے کہا ہے کہ میں امریکا کا شہری ہوں، پاکستان کا نہیں۔سابق سفیرکی بیٹی نورمقدم کے قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفرکو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے ملزم کو مزید دو دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ملزم ظاہر ذاکر جعفر کی عدالت پیشی پر میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھاکہ میں امریکا کا شہری ہوں، پاکستان کا نہیں، جوبھی ہے میرے وکیل آپ کو بتائیں گے۔خیال رہے کہ 20 مئی کو تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 28 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔پولیس نے لڑکی کے والدجو کہ مختلف ممالک میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں، کی مدعیت میں ظاہرجعفر نامی ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جو مقامی بزنس مین کا بیٹا ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قتل ہونے والی نور مقدم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ کا سر دھڑ سے الگ کیا گیا۔ذرائع کے مطابق مقتولہ نور مقدم کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس کو موصول ہو گئی جس کے مطابق مقتولہ کی موت کی وجہ دماغ کو آکسیجن سپلائی کی بندش ہے۔ذرائع نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کےمطابق مقتولہ کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات پائے گئے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولہ کے گھٹنے کے نیچے کے حصے پر بھی زخموں کے متعدد نشانات ہیں۔ذرائع کے مطابق رپورٹ کے مطابق مقتولہ کےجسم پر متعدد مقامات پر چاقو کے گہرے زخم ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ مقتولہ کے معدے سے لیا گیا مواد فارنزک کیلئے لیبارٹری بھجوایا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہمقتولہ نور مقدم کے معدے کی فارنزک رپورٹ پولیس کو تاحال موصول نہیں ہوئی ہے۔دوسری جانب مقتولہ نور مقدم کے والد شوکت علی مقدم کا کہنا ہے کہ میری بیٹی بہت پیاری اور نرم دل تھی، ہمارا خاندان بری طرح رو رہا ہے، میں سفیر رہا اور میں انصاف چاہتا ہوں۔میڈیا سے گفتگو میںمقتولہ نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے وزیراعظم عمران خان ،معاون خصوصی شہباز گلاور وفاقی وزیر شیریں مزاری کا واقعہ کا فوری نوٹس لینے پر شکریہ ادا کیا۔شوکت مقدم نے کہاکہ یہ ایسا کیس نہیں کہ ملزم فرار ہوا، ملزم پکڑا گیا اور اسلحے کے ساتھ پکڑا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ قاتل ایک پاگل آدمی نہیں ہے اور اگر ایک پاگل کو کمپنی کا ڈائریکٹر لگایا تو ماں باپ کو بھی تفتیش کا حصہ بنانا چاہیے۔سابق سفیر نے کہاکہ یہ ایک صاف کیس ہے اور قاتل سامنے کھڑا ہے، جب قتل کیا گیا قاتل کے چوکیدار نے بھی دیکھا۔


زیرو پوائنٹ

الیکشن کمیشن میں کیا ہو رہا ہے؟

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎

میں اگر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی ایک فقرے میں تشریح کروں تو یہ کہہ دینا کافی ہو گا ’’حکومت غلط آدمی سے ٹکرا گئی ہے‘ اس لڑائی میں صرف ایک فریق کو نقصان ہو گا اور وہ ہو گی حکومت ‘‘۔سکندر سلطان راجہ بھیرہ کے قریب چھوٹے سے گائوں چھانٹ میں پیدا ہوئے‘ گائوں میں بجلی تھی‘ ....مزید پڑھئے‎