پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

برطانوی ہوٹل کے قرنطینہ میں پاکستانی شہری کو طبی امداد نہ ملنے پر دل کا دورہ

datetime 31  مئی‬‮  2021 |

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) لندن ہائیکورٹ نے گزشتہ روز لندن کے رسل اسکوائر پر واقع پریسیڈنٹ ہوٹل کے قرنطینہ میں موجودہ پاکستانی شہری کو طبی امدا د دینے سے انکار پر دل کا دورہ پڑنے کے سبب موت کے قریب پہنچ جانے والے برٹش پاکستانی محمد رفیق کو قرنطینہ سے ریلیز

کرنے کاحکم جاری کردیا۔ روزنامہ جنگ میں مرتضیٰ علی شاہ کی شائع خبر کے مطابق برٹش پاکستانی 58 سالہ محمد رفیق کو پاکستان سے برطانیہ واپسی پر ہیتھرو ائرپورٹ سے 18 مئی کو قرنطینہ کیلئے حکومت کے منظورشدہ ہوٹل میں پہنچایا گیا تھا۔ ہوٹل پہنچنے کے چند گھنٹے بعد ہی اسے دل کا شدید دورہ پڑا، اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ موت کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ائرپورٹ کے حکام اور ہوٹل کے عملے کو معلوم تھا کہ محمد رفیق ناخواندہ ہے اور ٹیکنالوجی استعمال کرنا نہیں جانتا لیکن انھوں نے اس کے تحفظ کیلئے کچھ نہیں کیا۔ہوٹل پہنچ کر محمد رفیق نے ہوٹل کے عملے کو یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ وہ ذیابیطس کا مریض ہے اور اسے انسولین لینا پڑتی ہے، اس نے عملے کو جی پی کا خط بھی دکھایا تھا، جس میں لکھا تھا کہ اسے ایک مخصوص قسم کی انسولین لینا ہوتی اور اسے دوران سفر یہ انسولین اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت ہے اور اسے ایک مقررہ وقت پر مخصوص کھانا بھی کھانا ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…