جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کسی کا جگر خراب ہو جائے تو پیوند کاری کی ضرور نہیں بلکہ ۔۔! معروف سائنسدان نے شاندار رپورٹ پیش کر دی

datetime 19  اگست‬‮  2018 |

ایڈنبرا (این این آئی)ایڈنبرا کے سائنسدانوں نے کہاہے کہ اگر کسی کا جگر اچانک خراب ہو جائے تو اب ٹرانسپلانٹ یا پیوندکاری کی ضرورت نہیں ہوگی ٗجگر میں اگر خرابی پیدا ہو جائے تو اس میں خود کو ٹھیک کرنے کی قدرتی صلاحیت ہوتی ہے ٗلیکن کچھ معاملات جگر کی ان قدرتی صلاحیتوں کو نقصان پہنچتا ہے جیسے جگر پر کوئی خطرناک چوٹ جس میں زیادہ ادویات کا استعمال ہوتا ہو۔یہ علاج کینسر کی ایک دوا سے ہوتا ہے

جو جگر کی قدرتی صلاحیتوں کو پہلے جیسا ہی بنا دیتی ہے۔یہ تحقیق ابتدائی مراحل میں ہے لیکن سائنسدانوں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ پیوندکاری کے اس متبادل کا جگر کے امراض کے مریضوں پر گہرا اثر پڑیگا۔برطانیہ میں ہر سال تقریباً دو سو لوگوں کو جگر کی خطرناک بیماری کا سامنا ہوتا ہے۔اکیس سالہ سٹوڈنٹ نرس کارہ واٹ کو دو سال پہلے جگر ٹرانسپلانٹ کی ضرورت تھی۔ جب ان کی طبیعت خراب ہوئی اور چہرہ پیلا پڑنے لگا تو پتہ چلا کے ان کے جگر میں خرابی ہے جو بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ایڈنبرا کے ہسپتال میں انہیں بتایا گیا کہ انہیں جگر کی پیوندکاری کی ضرورت ہے۔ کارہ واٹ کہتی ہیں کہ یہ ان کیلئے یہ بہت بری خبر تھی۔سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اس بات کی تحقیقات شروع کی ہے کہ آخر کچھ لوگو ں میں جگر خود کو ٹھیک کرنے کی قدرتی صلاحیت کیوں کھو دیتا ہے۔تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ جگر میں چوٹ لگنے سے جگر میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔ اس عمل میں جگر کے سیل بوڑھے ہونے لگتے ہیں اور ٹھیک سے کام نہیں کرپاتے۔ایک سائنسی جریدے میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ بھی پتہ چلا ہے کہ اس کی ایک وجہ کیمیکل سگنل بھی ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ سائنسدان یہ تجربہ انسانوں پر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس سے جگر کی پیوندکاری کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے ان تحقیق کاروں میں سے ایک سائنسدان ڈاکٹر تھامس برڈ کا کہنا ہے کہ اس علاج کی خوبصورتی یہ ہے کہ

اگر آپ کو شدید چوٹ آئی ہو اس کے باجود بھی اس علاج کے بعد آپ ایک نارمل زندگی گزارتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اب جگر کے شدید امراض میں مبتلا مریضوں پر اس علاج کا تجربہ کیا جائیگا اور ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم جگر کی ہیوند کاری کے بغیر لوگوں کا علاج کر سکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ کارہ واٹ جیسے لوگوں کی مدد سے ہم اس تحقیق کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔سائنسدانوں کی یہ ٹیم جس میں گلازگو کی بیٹ سن انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین بھی شامل ہیں اس بات کی تحقیق بھی کر رہی ہے کہ کیا یہ سیل یا سگنلز جگر کے علاوہ دوسرے اعضا کو بھی متاثر کرتے ہیں جو انکے ناکارہ ہونے کا سبب ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…