جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

پریانکا چوپڑہ کو پاکستانی فنکاروں کے حق میں بیان دینا مہنگا پڑ گیا

datetime 21  اکتوبر‬‮  2016 |

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک)بالی ووڈ کی اداکارہ پریانکا چوپڑہ کو پاکستانی فنکاروں کے حق میں بیان دینا مہنگا پڑ گیا ہے۔ انھیں اس بیان کے بعد سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انڈین موشن پکچرز پرڈیوسرز ایسوسی ایشن (آئی ایم پی پی اے) کے صدر ٹی پی اگروال کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پریانکا چوپڑہ کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کے حق میں بیان بدقسمتی ہے۔ اگروال نے کہا کہ پریانکا کے والد کا تعلق خود بھارتی فوج سے تھا۔ ان کے والد نے بھارتی فوج میں ڈاکٹر کی حیثیت سے فوجیوں کا علاج کیا ہوگا اور بہت سی ہلاکتیں بھی دیکھی ہونگی۔ اس کے باوجود پریانکا چوپڑہ کی جانب سے ایسے بیان کو بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے۔ٹی پی اگروال کا مزید کہنا تھا کہ اگر وہ پرڈیوسرز کی مدد کرنے کی خواہش رکھتی ہیں تو انھیں عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں اور ان کی فلموں کی ریلیز کی کوشش کر کے دیکھ لیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انڈین موشن پکچرز پرڈیوسرز ایسوسی ایشن نے پاکستانی اداکاروں پر پابندی عائد نہیں کی۔ اگر پاکستانی کاسٹ کو لے کر کوئی فلم مکمل ہو چکی ہے تو اسے ضرور ریلیز ہونا چاہیے۔ تاہم دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے ختم ہونے تک پاکستانی اداکاروں کو کاسٹ کرنے سے اجتناب کی جائے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پریانکا چوپڑا نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مجھے اپنے ملک سے محبت ہے۔ ملک کے مفاد میں حکومت کے ہر فیصلہ کی وہ حمایت کرتی ہیں لیکن ان کا سوال ہے کہ دو ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد ہر مرتبہ صرف فنکاروں کو ہی نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہر معاملہ کے لئے فنکاروں کو قصوروار ٹھہرانا غلط ہے۔ کشیدگی کیلئے فنکاروں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ پریانکا چوپڑا نے کہا کہ کسی بھی فنکار نے کبھی ایسا کچھ ایسا نہیں کیا جس سے کسی کو کوئی نقصان پہنچا ہو۔ لیکن ہر دفعہ فنکاروں کو ہی سولی پر چڑھایا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ صرف ہمیں ہی کیوں، بزنس مین، ڈاکٹرز اور سیاستدانوں کو کیوں نہیں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…