جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

اسلام آباد دھماکا: حملہ آور کو جوڈیشل کمپلیکس تک لانیوالے موٹرسائیکل رائیڈر کو پکڑ لیا گیا

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز دیسک)اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیموں نے یہ پتہ لگا لیا ہے کہ خودکش بمبار جوڈیشل کمپلیکس تک کس طرح پہنچا۔ پولیس نے اس سلسلے میں اُس موٹرسائیکل سوار کو گرفتار کر لیا ہے جس نے حملہ آور کو وہاں پہنچایا تھا۔تحقیقات کے مطابق آن لائن موٹرسائیکل سروس کے ایک رائیڈر نے خودکش حملہ آور کو صرف 200 روپے میں کچہری کے قریب اتارا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آور کے گولڑہ سے روانگی اور راستے کی مکمل تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے تاکہ اس کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی جا سکے۔قبل ازیں تحقیقاتی اداروں کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حملہ آور جمعے کے روز اسلام آباد پہنچا اور پیر ودھائی سے موٹر سائیکل پر جی الیون کچہری گیا جہاں اس نے دھماکا کیا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے تھے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکا منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے ہوا، جس کی آواز شہر کے دور دراز علاقوں تک سنائی دی۔پولیس کے مطابق حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھا اور اس نے پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس کے نتیجے میں قریبی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی، جب کہ حملہ آور کے اعضا کچہری کے احاطے میں بکھر گئے۔حکام کے مطابق تفتیشی ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور حملہ آور کے سہولت کاروں تک پہنچنے کے لیے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…