جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

لیڈر شپ کی خصوصیات چہرے سے جھلکتی ہیں محققین کا دعویٰ

datetime 8  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کچھ لوگوں پر قسمت کی دیوی کچھ یوں مہربان ہوتی ہے کہ وہ بنا کسی خاص محنت اور کوشش کے ، کامیابی کی سیڑھیاں بنا رکے چڑھتے چلے جاتے ہیں۔ ایسے افراد کے پاس وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہوتی ہے، اس کا پتہ ماہرین کو لگ گیا ہے۔ برطانیہ کے ایک تعلیمی ادارے سے وابستہ محققین کا دعویٰ ہے کہ چہرے سے لیڈر شپ کی خصوصیات جھلکتی ہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں میں چھپا ٹیلنٹ تجربہ کار افراد کو وقت سے پہلے ہی دکھائی دے جاتا ہے اور قسمت ان پر مہربان ہوجاتی ہے۔نارتھمبریا یونیورسٹی میں کی گئی اس تحقیق کے مطابق چہرے کی ساخت دراصل انسانی جسم کی اندرونی ساخت اور ہارمونز کے اخراج کے حوالے سے بہت سے حقائق بیان کرتی ہے اور ان ہارمونز کا انسانی شخصیت اور مزاج کی تشکیل میں گہرا عمل دخل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ افراد جن کے رخسار کی ہڈی زیادہ چوڑی ہوتی ہے، وہ مردوں اور خواتین دونوں میں ہی زیادہ نمایاں اور دوسروں پر چھا جانے والی شخصیات ہوتی ہیں۔ اس ہڈی کی چوڑائی کا تعلق ٹیسٹوسٹیرون ہارمون کے اخراج سے ہے اور دوسروں پر غالب آنے والی خصوصیات بھی اسی ہارمون کا تحفہ ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ ماضی کے ماہرین بھی کچھ اسی قسم کے خیالات رکھتے تھے تاہم انہیں غلط ثابت کیا گیا تھا تاہم تازہ ترین ریسرچ کو زیادہ جدید خطوط پر مرتب کیا گیا ہے جس کی وجہ اسے باآسانی سند قبولیت مل چکی ہے۔ نئی ریسرچ میں چہرے کی ساخت سے اپنی ذات سے محبت، کشش، انزائٹی اور جنسی رجحانات جیسے امور کو جاننے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔
اگر ماہرین مذکورہ تحقیق کو زیادہ بڑے پیمانے پر ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ کسی تہلکے سے کم نہ ہوگا کیونکہ ایسے صورتحال میں کسی بھی فرد کیلئے اپنی اندرونی کیفیات اور رجحانات کو چھپانا ممکن نہ ہوگا۔ خاص کر شادی بیاہ، پیار محبت اور نوکری جیسے امور میں چہرے کی ساخت کو جانچنے کے ماہر افراد کی مدد لینے کا رجحان بڑھ جائے گا اور ایسے میں کسی بھی فرد میں موجود اس کی وہ خوبیاں یا خامیاں جو کہ چہرے پر دکھائی نہیں دیتی ہیں، پس منظر میں چلی جائیں گی اور محض چہرے ہی دل کے آئینہ دار کے روپ میں مرکزی حیثیت اختیار کر جائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…