لاہور(این این آئی) لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین کمسن بچوں کو گلے کاٹ کر قتل کر دیا گیا،
والدین گھر کو باہر سے تالا لگا کر میڈیکل سٹور پر ادویات لینے کے لیے گئے، جب واپس گھر آئے تو بچوں کی گردنیں کٹی ہوئی تھیں، آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو قتل میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔پولیس کے مطابق اچھرہ کے علاقے میں 2بچیوں اور ایک بچے کی لاشیں ملی ہیں، بچوں کو گلا کاٹ کر قتل کیا گیا، ون فائیو پر اطلاع ملی، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بچوں کے والدین گھر کو تالا لگا کر ادویات لینے کے لئے قریبی فارمیسی گئے تھے، واپسی پر انہوں نے گھر کے اندر اپنے بچوں کو مردہ حالت میں پایا، جن کے گلے تیز دھار آلے سے کاٹے گئے تھے۔مقتول بچوں کی شناخت پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ کے نام سے ہوئی ہے، پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچی، ریسکیو ٹیموں نے کمسن بچوں کی میتوں کو پوسٹ مارٹم کیلئے منتقل کر دیا ۔
ایس ایس پی توقیر نعیم نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، واقعہ کی مختلف پہلوئوں سے تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔بعدازاں آئی جی پنجاب عبدالکریم نے اچھرہ میں تہرے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر لی، آئی جی پنجاب نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو قتل میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا اور کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔پنجاب پولیس کے ترجمان نے کہا کہ سینئر افسران، فرانزک ٹیمیں موقع پر پہنچے اور شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز لاہور نے کہا کہ ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، ملزم کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جلد گرفتار کر لیں گے، حقائق سامنے لا کر ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کیا گیا اور مشتبہ افراد کی چیکنگ جاری ہے ،علاقہ کے سی سی ٹی و کیمروں کو قبضہ میں لے لیا گیا، ٹریسنگ جاری ہے۔پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں تین کمسن بچوں کے لرزہ خیز قتل سے خوف و ہراس پھیل گیا ، اہل علاقہ نے واقعہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے سفاک قاتل کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ خیال رہے کہ ایک روز قبل ہی وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے جرائم بڑھنے پر پولیس افسروں کی سرزنش کی تھی، اجلاس کے دوسرے روز ہی لاہور میں دل دہلا دینے والا واقعہ ہو گیا۔



















































