پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ادائیگی توازن بحران، قابو پانے کیلئے چین سے درخواست ہی واحد راستہ

datetime 16  مئی‬‮  2023 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آئی ایم ایف فنڈ پروگرام کی گرتی ہوئی بحالی کو جاری رکھتا ہے تو پاکستان کے پاس ادائیگی توازن (بیلنس آف پیمنٹ) کے بحران کو مکمل طور پر پھیلنے سے روکنے کے لیے اسلام آباد کی بیمار معیشت کو بیل آؤٹ کرنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرنے کے لیے چین سے کہنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ ہوگا۔

اب پالیسی سازوں کے پاس ادائیگی توازن کے بحران اور ڈیفالٹ کے ساتھ ساتھ بے مثال سطح تک دم گھٹتی معیشت سے بچنے کے لیے دیگر تمام راستے تلاش کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ جنگ اخبار میں مہتاب حیدر کی خبر کے مطابق اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ملک میں گہرے سیاسی اور معاشی بحران کے درمیان آئی ایم ایف نے انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اپنائی ہے لیکن اس پالیسی پر زیادہ دیر تک نہیں چلا جاسکتا۔ یا تو آئی ایم ایف کو نویں جائزے کی تکمیل کے ذریعے بحال کرنا پڑے گا یا پھر پروگرام ختم کر دیا جائے گا۔ ہم نویں جائزے کی تکمیل کے بغیر آئی ایم ایف کے ساتھ مزید کوئی ڈیٹا شیئر نہیں کریں گے۔ آزاد معاشی ماہرین اب تجویز کر رہے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے کی آخری کوشش کرے یا پھر واضح طور پر چین کی جانب دیکھے تاکہ مشکلات کا شکار معیشت کو بیل آؤٹ کیا جا سکے۔ سابق وزیر خزانہ اور معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے بتایا کہ اگر آئی ایم ایف آگے نہیں بڑھتا تو پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ وہ چین سے درخواست کرے کہ وہ اسلام آباد کو مکمل بحران سے نکالنے کے لیے مدد کے لیے کوئی طریقہ کار وضع کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…