امیدوار چیئرمین سینٹ کی سلیکشن، وزیراعظم عمران خان کی چال نے اپوزیشن کو مشکل میں ڈال دیا‎

  پیر‬‮ 8 مارچ‬‮ 2021  |  19:54

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن پر ترجمانوں کو ٹاسک سونپتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کرپٹ نظام کی محافظ ہے،ایک نااہل شخص نے پیسے کے زور سینیٹ الیکشن جیتااور اب چیئرمین سینیٹ کے خواب دیکھ رہا ،سینیٹ الیکشن سے قبل جو خدشات ظاہر کیے تھے وہ سچ ثابت ہوئے ، الیکشن کمیشن نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ،ٹریس ایبل بیلٹ پیپرز چھاپنےمیں کتنا وقت لگتا ہے ؟ماضی کی حکومتوں نے پیسہ لوٹا اور پھر اس پیسے سے الیکشن خریدے اور یہ لوگ پیسے کے بل بوتے پر الیکشن خریدا کرتے تھے،پھر عوام


کی جیبوں سے پیسہ نکلواتے ہیں ،کرپشن کرکے نیلسن منڈیلا کی طرح تقاریر جھاڑتے رہے ،کچھ صحافی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے کہ منڈیلا کو بولنے دیں ،قوم کی اخلاقیات تباہ کردی گئی ہیں ،حکومتی ترجمان پی ڈی ایم کیخلاف مزید فعال ہوںاورسینیٹ الیکشن پرپیسے کے استعمال پرحکومتی بیانیہ کو اجاگرکیا جائے، قوم کو تمام حقائق سے آگاہ کریں ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں سینٹ انتخابات ، اعتماد کے ووٹ کے بعد سیاسی صورتحال ، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹص کے انتخابات کے حوالے سے حکمت عملی اورالیکشن ایکٹ کا جائزہ لیا گیا ۔اجلاس میں مریم نواز کے بیان ’’ٹکٹ چلا‘‘ کیخلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس میں ڈسکہ این اے 75 کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی ۔حکومتی ترجمان کے مطابق اجلاس میں سینیٹ انتخابات سے متعلق کئی سوالات بھی اٹھائے گئے ۔سینیٹ الیکشن میں چھوٹی سیٹ پر تحریک انصاف کی امیدوار کو کامیابی ملی اور حفیظ شیخ کی سیٹ پر شکست کیوں ہوئی ؟ چوری کا الیکشن جیتنے پر خوشیاں منائی گئیں ، اگرہائوس کا اعتماد نہیں تھا تو فوزیہ ارشد کیسے جیت گئی ؟ ہائوس کا ارادہ نہ ہوتا تو فوزیہ ارشد کیسے جیت جاتی؟ الیکشن کمیشن نے ذمہ اری کا مظاہرہ نہیں کیا ٹریس ایبل بیلٹ پیپرز چھاپنے میں کتنا وقت لگتا ہے ؟وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران جس طرح اپوزیشن نے پیسہ چلایا پوری قوم کے سامنے ہے۔ انتخابی اصلاحات سیکرپشن کے دروازے بند کروں گا، مستقبل میں پیسہ کا استعمال روکنے قانون سازی پر کام جاری ہے۔ کوشش ہے آئندہ سینیٹ انتخابات اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوں گے، مستقبل میں صاف ، شفاف الیکشن چاہتے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ صادق سنجرانی ہمارے مضبوط امیدوار ہیں، انشا اللہ کامیاب ہوںگے۔ اپوزیشن ناکام ہوئی اور مستقبل میں بھی ناکام ہوگی۔ پی ڈی ایم والوں کو ہر جگہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن سے قبل جو خدشات ظاہر کیے تھے وہ سچ ثابت ہوئے ، ماضی کی حکومتوں نے پیسہ لوٹا اور پھر اس پیسے سے الیکشن خریدے اور یہ لوگ پیسے کے بل بوتے پر الیکشن خریدا کرتے تھے،پھر عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلواتے ہیں ،کرپشن کرکے نیلسن منڈیلا کی طرح تقاریر جھاڑتے رہے ،کچھ صحافی بھی ہائیکورٹ پہنچ گئے کہ منڈیلا کو بولنے دیں ،قوم کی اخلاقیات تباہ کردی گئی ہیں ،حکومتی ترجمان قوم کو تمام حقائق سے آگاہ کریں۔انہوںنے کہا کہ اپوزیشن کرپٹ نظام کی محافظ ہے اورمجھے پتہ ہے کہ کتنا پیسہ فی سینیٹر دیا گیا اور یہ پیسہ صرف اسلام آباد میں نہیں بلکہ خیبرپختونخواہ میں بھی چلا ہے ،حکومتی ترجمان سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلنے کے حوالے سے عوام کو حقائق سے آگاہ کریں کیونکہ ایک نااہل شخص پیسے کے زور پر سینیٹ میں آگیا ہے اور اب پیسے کے زور پر چیئرمین سینیٹ کا خواب دیکھ رہا ہے ۔انہوںنے کہاکہ سینیٹ الیکشن میں ہماری پٹیشنزکوکسی خاطرمیں نہیں لایاگیا،وزیر اعظم نے کہاکہ سینیٹ الیکشن پرپیسے کے استعمال پرحکومتی بیانیہ کو اجاگرکیا جائے اورپی ڈی ایم کیخلاف حکومتی ترجمانوں کو مزید فعال ہونا ہوگا ۔وزیراعظم نے کہاکہ مہنگائی اورعام آدمی کی آسانی ترجیح ہے،عوام کوآگاہ کریں۔


زیرو پوائنٹ

جوں کا توں

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎

چاچا چنڈ میرے کالج کے زمانے کا ایک کردار تھا‘ وہ ڈپریشن اور غربت کا مارا ہواخود اذیتی کا شکار ایک مظلوم شخص تھا‘ وہ دوسروں کی ہر زیادتی‘ ہر ظلم اور ہر توہین کا بدلہ اپنے آپ سے لیتا تھا‘ لوگوں نے ”چاچا چنڈ“ کے نام سے اس کی چھیڑ بنا لی تھی‘ پنجابی زبان میں تھپڑ ....مزید پڑھئے‎