جمعہ‬‮ ، 31 جولائی‬‮ 2026 

وفاقی حکومت ملک میں پیدا ہونے والی گندم کو خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتی، سندھ میں گندم کی امدادی قیمت میں بڑا اضافہ، کسانوں کیلئے خوشخبری

datetime 30  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت ملک میں پیدا ہونے والی گندم کو خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔ترجمان صوبائی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ گندم کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یوکرئن اور روس سے گندم منگوائی جا رہی ہے۔ منگوائی گئی گندم کا معیار ہماری گندم سے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ درآمدی گندم 2 ہزار روپیفی من پڑ

رہی ہے۔ ہم خود کو زرعی ملک کہتے ہیں لیکن گندم اور چینی بھی درآمد کرتے ہیں۔مرتضی وہاب نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے گندم کا سپورٹ ریٹ بڑھایا۔ کسی اور حکومت نے ریٹ نہیں بڑھایا۔ وفاقی حکومت کسانوں کو ریلیف دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ہم مہنگی گندم خریدنے کو تیارہیں لیکن کسان کو ریلیف نہیں دے سکتے۔ترجمان صوبائی حکومت مرتضی وہاب نے کہا کہ ملک اس وقت گندم بحران کا شکار ہے۔ وفاقی حکومت کو 2 ہزار روپے امدادی قیمت کی تجویز دی ہے۔ ڈرگ ایکٹ میں ترامیم کو سندھ اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔دوسری جانب سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں گنے کی امدادی قیمت 2 سو 2 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ترجمان وزیر اعلی سندھ نے کہا ہے کہ سندھ میں گندم کی امدادی قیمت 2 ہزار روپے من مقررکرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ بریفنگ میں کہا گیا کہ 16-2015 سے 19-2018 تک سپورٹ پرائس 1300 روپے فی من تھی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 20-2019 میں گندم کی قیمت ایک ہزار 400 روپے فی من مقرر کی گئی تھی۔ وزیر خوراک ہری رام نے کابینہ کا بتایا کہ درآمد شدہ گندم ہم 5 ہزار روپے فی 40 کلوگرام پر لیتے ہیں۔وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ ہم درآمد شدہ گندم پر غیر ملکی زر مبادلہ

خرچ کرتے ہیں۔سیکرٹری خوراک نے اجلاس کو بتایا کہ درآمد شدہ گندم کا معیار ہماری اپنی گندم کے معیار سے کم ہے اور 8-2007 میں سپورٹ پرائس 625 فی 40 کلوگرام تھی جبکہ سندھ حکومت نے 9-2008 میں سپورٹ پرائس بڑھا کے 950 روپے فی من مقرر کی تھی جس کے نتیجے میں گندم زیادہ اگائی گئی اور سندھ میں بہترین فصل ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Foot In The Door


خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…