ہفتہ‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2025 

’کہتےہیں بلین ٹری لگائے لیکن ہمیں کوئی درخت نظر نہیں آیا‘ ہم پشاور آئے یہاں اتنی گرد ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ہے، چیف جسٹس گلزار احمد کی پی ٹی آئی حکومت پر شدیدتنقید

datetime 5  اکتوبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پشاور(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ کہاں ہے بلین ٹری سونامی کے درخت ہمیں تو ایک بھی نظر نہیں آیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پشاور رجسٹری میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کیس کی سماعت کی۔ ڈی جی ماحولیات، سیکرٹری ماحولیات،

سیکٹری انڈسٹری اور ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے جو آفیسرز کام نہیں کررہے سب کو فارغ کردینا چاہیے، آفیسروں کا کام صرف خط لکھنا نہیں، ہم پشاور آئے تو ہر طرف گرد ہی گرد دکھائی دے رہی ہے، اتنی گرد ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پشاور کا یہ ہال ہے دیگر شہروں کا کیا ہال ہوگا، یہاں تو اتنی فیکٹریاں بھی نہیں پھر بھی یہ صورتحال ہے، یہاں کورونا نہ بھی ہو تو ماسک پہننا ضروری ہے، کہاں ہے بلین ٹری سونامی کے درخت ہمیں تو ایک بھی نظر نہیں آیا، ہم رات کے وقت پشاور آرہے تھے تو بہت برے حالات تھے، شام کے وقت ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا، آپ لوگ اس کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں، آپ تو کہہ رہے بلین درخت لگائے ہیں، آپ کے درخت کہاں پر ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ہم راستے میں آ رہے تھے تو کہیں بھی درخت نظر نہیں آئے، شاہراہ کے کنارے کوئی درخت نہیں صرف دھواں نظر آ رہا تھا، سیکرٹری ایسے سفید کپڑوں میں آئے ہیں کہ لگتا ہی نہیں کہ یہ کبھی فیلڈ میں گئے ہوں، یہ کام کے بندے ہوتے تو انکے کپڑے اتنے صاف نا ہوتے، یہ صرف خط لکھتے ہیں اور دفتر میں افسری کرتے ہیں، ان تمام افسروں کو فارغ کر کے ایسیبندے لائے جائیں جو کام کے ہوں، پشاور میں ماحولیاتی آلودگی اتنی ہو چکی کہ یہاں ماسک کے بغیر کو ئی گھر سے نکل نہیں سکتا۔عدالت نے چار ہفتوں میں متعلقہ محکموں سے تفصلی رپورٹ طلب کر لی۔ ‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…