ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے کتنے ٹریلین ڈالرخرچ کرے گا ؟ جاپان نے چین سے اپنی کمپنیوں کو نکلنے کی ہدایات کیوں دیدیں؟بھارت کہاں نظریں جمائے بیٹھا ہے؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 23  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے عالمگیریت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔2008 کے عالمی معاشی بحران اور امریکہ و چین کے مابین تجارتی جنگ نے گلوبلائیزیشن کے سا بقہ تصورکی بنیادیں ہلا دی ہیں جبکہ کرونا وائرس رہی سہی کسر پوری کر رہا

ہے۔عالمگیریت کے متعلق رائے عامہ بدل رہی ہے، امریکہ اپنا کردار ادا کرنے کی معاشی پوزیشن میں نہیں ہے جبکہ چین اپنے مفادات کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار ہے جس سے مستقبل میں فری ٹریڈ ایک خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ اب بہت سے ملکوں نے لاک ڈائون ختم کر دیا ہے یا نرمی کر دی ہے جس سے تجارتی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں مگر افراد،اشیاء ، سرمایہ اور انفارمیشن کا بہائو پہلے جیسا آزادانہ نہیں ہے جس سے عالمی تجارت تیزی سے سکڑ رہی ہے۔امریکہ و دیگر ممالک میںسرمایہ کاری اور روزگار کے لئے نقل مکانی کی مزید حوصلہ شکنی کے لئے اقدامات جاری ہیں اور بہت سے بڑی کمپنیوں پر اپنا تمام کاروبار امریکہ میں ہی منتقل کرنے کے لئے دبائوڈالا جا رہا ہے تاکہ مقامی افراد کو زیادہ نوکریاں مل سکیں۔ کئی یورپی ممالک بھی انہی خطوط پر سوچ رہے ہیں ، جاپان کی حکومت نے اپنی کمپنیوں کو چین سے نکلنے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ بھارت چین سے نکلنے والی ایک ہزار کمپنیوں پر نظریں جمائے بیٹھا ہے۔جوابی کاروائی کے طور پرچین نے بھی امریکہ میں سرمایہ کاری کم کر دی ہے جس میں مزید کمی متوقع ہے۔ان اقدامات سے پیدا ہونے والی عالمی صورتحال میں ترقی پذیر ممالک کی غربت سے نکلنے کی کوششیں متاثر ہونگی جبکہ امیر ممالک میں ضروریات زندگی سمیت تقریباً تمام اشیاء مہنگی ہو جائیں گے۔

دنیا کے متعدد ممالک کے مابین دوریاں بڑھ جائیں گی، نیشنل ازم پروٹیکشن ازم اور تنازعات بڑھ جائیں گے، دنیا میں عدم استحکام مزید بڑھے گا اور تمام ممالک میںمل جل کر عالمی مسائل حل کرنے کا نظام کمزور ہو جائے گا۔مستقبل میں بہت سے ممالک صرف انہی سے تجارت کریں گے اور انکے شہریوں کو نقل مکانی کی اجازت دینگے جہاں صحت کا معیار اور قوانین ان سے مماثلت

رکھتے ہیں۔میاںزاہد حسین نے مزید کہا کہ چین بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے4ٹریلین ڈالر خرچ کریگا جس پر138ممالک دستخط کر چکے ہیں ۔پاکستان کی حکومت، پالیسی سازوںاور کاروباری برادری کوچاہئے کہ چینی

سرما یہ کاری کے نتیجے میں نئی آنے والی معاشی سرگرمیوں سے بننے والے مواقعوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ خود کو بین الا قوامی منڈیوں میں ایڈجسٹ کیا جا سکے اورعالمی منڈیوں سے بھرپور فوائد سمیٹے جا سکیں۔



کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…