پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

صدارتی ریفرنس ،جسٹس قاضی فائز نے شہزاد اکبر سے متعلق 15 سوالات اٹھادئیے شہزاد اکبر کی ملازمت کی شرائط اور ضوابط کیا ہیں ؟ کیا شہزاد اکبر پاکستانی ہیں؟ شہزاد اکبر نے اپنی بیوی اور بچوں کے نام کیوں ظاہر نہیں کیے؟ ان کی بیوی اور بچے کس ملک کی شہریت رکھتے ہیں؟

datetime 29  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کے معاملے پر وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر سے متعلق 15 سوالات اٹھادئیے۔ نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں ایک اور جواب جمع کرایا جس میں سوال کیا گیا کہ شہزاد اکبر کو کس نے ملازمت پر رکھا؟ کیا ایسٹ ریکوری یونٹ کے

چیئرمین کے عہدے کا اشتہار دیا گیا ؟ کیا اثاثہ ریکوری کے چیئرمین کیلئے درخواستیں طلب کی گئیں، کیا شہزاد اکبر کا انتخاب فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوا؟جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال اٹھایا کہ ان تین چار سوالات کے جواب منفی میں ہیں توکیسے ملازمت پر رکھا گیا؟ شہزاد اکبر کی ملازمت کی شرائط اور ضوابط کیا ہیں ؟ کیا شہزاد اکبر پاکستانی ہیں؟ غیر ملکی ہیں یا دوہری شہریت رکھتے ہیں؟ اثاثہ ریکوری یونٹ قانونی نہ ہونے پر خرچ کی جانے والی رقم عوام کے پیسے کی چوری ہے؟انہوں نے سوال اٹھایا کہ شہزاد اکبر نے سپریم کورٹ کے جج اور اہل خانہ کے بارے میں معلومات غیر قانونی طور پر اکٹھا کیں، شہزاد اکبر نے اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں کچھ ظاہر کیوں نہیں کیا؟ ان کا اِنکم ٹیکس اور ویلتھ اسٹیٹس کیا ہے؟ شہزاد اکبر نے کب اپنے اِنکم ٹیکس ریٹرن داخل کرانا شروع کیے؟ انہوں نے اپنی جائیداد، اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال اٹھائے کہ شہزاد اکبر نے اپنی بیوی اور بچوں کے نام کیوں ظاہر نہیں کیے؟ ان کی بیوی اور بچے کس ملک کی شہریت رکھتے ہیں؟ کیا شہزاد اکبر کی بیوی اور بچوں کی جائیدادیں پاکستان میں ہیں یا بیرون ملک؟ کیا انہوں نے اپنی بیوی اور بچوں کی جائیدادیں اپنے گوشواروں میں ظاہر کیں؟ عدالتی توہین کے پیچھے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان ، وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور شہزاد اکبر مرزا کی تکون ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…