ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

’’ سینٹرل پاورپرچیزنگ ایجنسی نے جہانگیر ترین کے کتنے اربوں روپے کاٹ لیے ؟‘‘ پی ٹی آئی سینئر رہنما نے عدالت میں مقدمہ درج کر دیا ، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 19  اپریل‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) پی ٹی آئی سینئر رہنما جہانگیر ترین نےبتایا ہے کہ ان کی کمپنی کے پاور پراجیکٹس سے متعلق خبر سراسر غلط ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریک انصاف رہنما نے کہا ہے کہ حقیقت میںسینٹرل پاورپرچیزنگ ایجنسی نے ان کے 3 ارب 90 کروڑ روپےکی کٹوتی کردی تھی ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی کٹوتی کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے ،

اور کیس ابھی زیر سماعت ہے۔قبل ازیں پی ٹی آئی رہنما جہانگیر ترین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ میں عمران خان کا ساتھی ہوں میرے عمران خان سے کوئی اختلافات نہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ میرے اپنی جماعت سے اختلافات ہیں۔یہ افواہیں بھی بالکل غلط ہیں کہ میں کسی دوسری جماعت کی قیادت سے ملاقاتیں کر رہا ہوں۔جہانگیر ترین نے مزید کہا کہ مارچ 2019 میں وزیر اعظم اور کابینہ کو زراعت ایمرجنسی پروگرام کےحوالے سے بریفنگ دی۔بریفنگ میں گنے کی کاشت کے حوالے سے اصلاحاتی پروگرام پیش کیا، وزیر اعظم اور کابینہ کو بتایا کہ مجوزہ پروگرام پر عمل کر کے ملک سبسڈی کے بغیر چینی ایکسپورٹ کرنے کے قابل ہو جائے گا، پروگرام پر عمل کے نتیجہ میں کم زیر کاشت رقبے سے زیادہ فصل حاصل کی جا سکے گی۔یاد رہے کہ چینی ،آٹا سیکنڈل کی تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد عمران خان اور جہانگیر ترین کےدرمیان دوریوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔دوسری جانب جہانگیر ترین کی 2 آئی پی پیز کو 5سال میں 3 اعشاریہ85 ارب روپے اضافی منافع ملنے کا انکشاف۔ایس ای سی پی کے سابق چیئرمین محمد علی کی سربراہی میں 9رکنی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی۔ تفصیلات کے مطابق مخدوم خسرو بختیار کی فیملی نے گنے کی پھوک سے چلنے والے آئی پی پی کے ذریعے تین سال کے اندر 1 ارب روپے سے زیادہ منافع حاصل کیا ۔ جہانگیر ترین کے گنے کی پھوک سے چلنے والے پاور پلانٹس جے ڈی ڈبلیو 2 نے پانچ سال میں 2.5ارب روپےاور جے ڈی ڈبلیو 3 نے1.94 ارب روپے اضافی منافع کمایا ۔ جب کہ آر وائے کے شوگر ملز لمیٹڈ نے تین سال میں 1 ارب روپے اضافی منافع کمایا۔ جب کہ چنیوٹ پاور لمیٹڈ نے 1 اعشاریہ 33 ارب روپے اضافی منافع کمایا۔ ایس ای سی پی کے سابق چیئرمین محمد علی کی سربراہی میں 9رکنی کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیپرا نے گنے کی پھوک سے چلنے والے پاور پلانٹس کو 15 فیصد منافع کی اجازت دی تھی مگر حقیقت میں ان کی آمدنی 18.39 فیصد رہی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…