چوہدری شجاعت کا مولانا عبدالغفورحیدری سے انتہائی اہم ٹیلی فونک رابطہ، مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد لائحہ طے کرنے کا فیصلہ

  ہفتہ‬‮ 25 جنوری‬‮ 2020  |  23:14

کوئٹہ (آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کا جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری سے ٹیلیفونک رابطہ صوبے کی سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا چوہدری شجاعت نے گزشتہ روزجمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری سے ٹیلیفونک رابطہ کیااس موقع پر دونوں رہنماؤں کے درمیان مختلف ا مورپر تبادلہ خیال کیا گیا مولانا عبدالغفور حیدری نے آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے حالیہ بلوچستان کے سیاسی صورتحال کے امور پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی اور اس ضمن میں بھی


مختلف زاویوں کاجائزہ لیا گیا کہ صوبے میں تحریک عدم اعتماد کی جو سیاسی فضاء موجود ہے اس میں کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لینا کیلئے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی جائے گی جس کے بعد جواب اپنے باضابطہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی انہوں نے کہا کہ بظاہر جو اس وقت ملک کو حالات کا سامنا ہے وہ کافی پریشان کن ہے مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے جبکہ ملکی معیشت کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے ایسے صورتحال میں اہل اقتدار حق حکمرانی کھو چکے ہیں ہم سمجھتے ہیں عوام کو ریلیف پہنچانے کے بجائے تکلیف پہنچانے والے مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے خاتمے کا وقت آچکا ہے موجودہ نظام دھاندلی کی کمزور اینٹو پر کھڑا کیاگیا ہے جو کسی بھی وقت دھڑن تختہ ہوسکتا ہے جمعیت علماء اسلام اپنااصولی موقف روز اول سے بیان کر چکی ہے کہ عوامی مفادات کیلئے جہد مسلسل ہمارا آئینی اور جمہوری حق اور نصب العین ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎