اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

مرے کو مارنا کونسی بہادری ہے جب وہ طاقتور تھا زور آور تھا تو اسکے بوٹ چاٹے اسکے منہ سے نکلے الفاظ کو قانون کا درجہ دیا گیا ، پرویز مشرف کی سزائے موت کے فیصلے پر نہایت معتبر شخصیت نے ردعمل جاری کر دیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر اینکر پرسن کامران خان نے کہا ہے کہ ’’مرے کو مارنا کونسی بہادری ہے جب وہ طاقتور تھا زور آور تھا تو اسکے بوٹ چاٹے اسکے منہ سے نکلے الفاظ کو قانون کا درجہ دیا کس کو نہیں پتا کہ آج اسکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مزا توجب آتا جب اپ اپنے ان بھائی بندوں کو بھی چڑھاتے جو اس زور آور کا آلہ بنے وقت امتحان پتلی گلی سے نکل گئے۔

تفصیلات کے مطابق کامران خان نے ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ مرے کو مارنا کونسی بہادری ہے جب وہ طاقتور تھا زور آور تھا تو اسکے بوٹ چاٹے اسکے منہ سے نکلے الفاظ کو قانون کا درجہ دیا کس کو نہیں پتا کہ آج اسکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مزا توجب آتا جب اپ اپنے ان بھائی بندوں کو بھی چڑھاتے جو اس زور آور کا آلہ بنے وقت امتحان پتلی گلی سے نکل گئے۔ واضح رہے کہ پاک فوج نے خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنانے پر باضابطہ رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ فیصلے سے پاکستان کی مسلح افواج کے ہر رینک میں غصہ اور درد محسوس کیا گیا ہے،پرویز مشرف سابق آرمی چیف ،جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور صدر پاکستان رہے اور چالیس سال سے زائد ملک کی خدمت کی ہے،ملک دفاع کیلئے جنگیں لڑی وہ کبھی بھی غدار نہیں ہوسکتے ، افواج پاکستان کو دستور پاکستان کے تحت مکمل انصاف کی توقع ہے۔ منگل کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کی جانب سے ایک بیان میں کہاگیاکہ ایک سابق آرمی چیف ،چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور صدر پاکستان جس نے چالیس سال سے زائد ملک کی خدمت کی ہے اور ملک کے دفاع کیلئے جنگیں لڑی ہیں وہ کبھی بھی غدار نہیں ہوسکتا ۔بیان میں کہاگیاکہ خصوصی عدالت کی تشکیل ، دفاع کے بنیادی حق سے محرومی ،ایک شخص کے خلاف مخصوص کارروائی اور کیس کو جلدی میں نمٹانے سے قانونی اور دستوری تقاضوں کو نظر انداز کیا گیا ۔بیان میں کہاگیاکہ افواج پاکستان کو دستور پاکستان کے تحت مکمل انصاف کی توقع ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…