جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

صوبے میں بڑے پیمانے پر اکھار بچھاڑ ، پنجاب حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

datetime 17  دسمبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور(آن لائن)پنجاب حکومت نے من پسند اور سفارشی بنیادوں پر تعینات کمپنیز اور اتھارٹیز کے 19 چیئرمینوں و ممبران کو ہٹانے کا فیصلہ کر لیا، بعض چیئرمین اور ممبران کی طرف سے عہدے کا مبینہ طور پر ناجائز استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے، اور متعلقہ شعبے کا تجربہ نہ رکھنے اور سرکاری امور میں غیر قانونی اور میرٹ کے برعکس مبینہ طور پر مداخلت کرنے کے باعث ان کی کارکردگی رپورٹ

انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے تیار کر لی گئی ہیں، جبکہ اس رپورٹ سے چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان کو بھی آگاہ کر دیا گیا اور یہ رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔ذرائع سے معلوم ہوا کہ صفائی کی کمپنیوں سمیت دیگر کمپنیوں میں تعینات کئے گئے سیاسی اور سفارشی افراد کی وجہ سے کوئی ایک بھی کمپنی کارکردگی نہ دکھا سکی۔ افسروں کی جہاں کارکردگی کو دیکھا گیا وہاں سیاسی تعیناتیوں کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جس کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی تیاری کر لی گئی ہے، موجودہ حکومت کے ا?تے ہی بعض من پسند اور غیر تجربہ کار افراد کو انتہائی اہم عہدوں پر تعینات کر دیا گیا جس کی وجہ سے پنجاب کی کسی کمپنی اور اتھارٹی کی جانب سے کارکردگی نہ دکھائی جاسکی جبکہ بعض ایسے افراد کو اہم عہدوں پر تعینات کیا گیا جن کا متعلقہ فیلڈ سے کاروبار وابستہ ہے لیکن وہ مبینہ طور پر ان ڈائریکٹ طریقے سے اپنے کاروبارکو منافع پہنچانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا ٹاسک جہاں تمام کمپنیوں اور اتھارٹیز کو بہتر انداز میں چلانا اور اخراجات کو کم کرنا تھا لیکن اس پر عملدرآمد ممکن نہ ہوسکا، یہ ٹاسک بھی وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف سیکرٹری پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان کو دیا گیا تھا جب ان کو بریفنگ دی گئی تو انکشافات ہوئے کہ صفائی کا نظام شدید متاثر ہے، کسی ایس او پی پر عملدرآمد ہی نہیں کیا جارہا یہاں تک کے جگہ جگہ گندگی ہے اور جو پراجیکٹ شروع ہونا تھے اس پر گزشتہ حکومت نے جو کام کیا صرف وہی ہو سکا، چیئرمینوں اور ممبران کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانیوالی میرٹ کے برعکس مداخلت اور اخراجات میں اضافہ غیر ضروری پروٹوکول لینے، گاڑیوں کے استعمال سمیت تمام معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح صوبے میں پارکنگ کمپنیز کا بھی ڈیڑھ برس گزر جانے کے باوجود کوئی سسٹم بہتر نہ ہوسکا، جبکہ بعض چیئرمین اور ممبران اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کو بائے پاس کرتے ہوئے وزیراعظم کو ڈائریکٹ رپورٹ کرتے رہے اور تاحال یہی سلسلہ جاری ہے اور وزیراعلیٰ سمیت پنجاب کے عہدیداروں کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کے بجائے معمول کی کارکردگی کو اپنی کارکردگی بنا کر وزیراعظم کو پیش کرتے رہے جبکہ متعدد دیگر کمپنیز اور اتھارٹیز بارے بھی رپورٹس ایسی ہی ہیں جن کو دیکھتے ہوئے اب پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے تمام افراد کو تبدیل کرتے ہوئے میرٹ پر تعیناتیاں کی جائیں جس کیلئے متعدد ناموں پر غور شروع کر دیا گیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…